Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

محمد رضوان کو این سی سی آئی اے کی تحقیقات پر دوسری مرتبہ بات کرنے کی اجازت نہ ملی

رضوان اور امام الحق رواں ماہ این سی سی آئی اے  کے سامنے پیش ہوچکے ہیں

قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جاری تحقیقات پر عوامی مؤقف دینے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ سے 2 بار اجازت طلب کی، تاہم ذرائع کے مطابق دونوں مرتبہ انہیں اجازت نہیں دی گئی۔

ذرائع کے مطابق رضوان موبائل فون قبضے میں لیے جانے، اپنے خلاف عائد الزامات اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو لکھے گئے خط سے متعلق اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھنا چاہتے تھے۔ تاہم مرکزی معاہدے کی شق 4.1 کے تحت کسی معاہدے سے متعلق معاملے پر عوامی بیان دینے سے پہلے پی سی بی کی اجازت ضروری ہے۔

رضوان نے مبینہ طور پر مرکزی معاہدے کی شق 16 کا حوالہ دیتے ہوئے بورڈ اور کھلاڑی کے درمیان تعاون کی بنیاد پر اپنا مؤقف بیان کرنے کی اجازت مانگی، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پی سی بی یا کسی ادارے پر الزام عائد کرنا نہیں بلکہ واقعات کی ترتیب اور اپنا مؤقف واضح کرنا تھا۔

یہ معاملہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد رضوان کا موبائل فون قبضے میں لیے جانے کے بعد شروع ہونے والی این سی سی آئی اے تحقیقات سے جڑا ہے۔ رضوان نے گزشتہ ہفتے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا تھا، تاہم عدالت نے انہیں پہلے این سی سی آئی اے کے نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی تھی۔

رضوان اور امام الحق رواں ماہ این سی سی آئی اے  کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔ تحقیقات میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم معلومات کے افشا اور آن لائن بیٹنگ و جوئے سے متعلق معاملات زیرِ بحث ہیں، تاہم دونوں کھلاڑیوں کے خلاف تاحال کوئی حتمی نتیجہ سرکاری طور پر سامنے نہیں آیا۔

ذرائع کے مطابق رضوان نے آئی سی سی  کی اینٹی کرپشن یونٹ سے بھی موبائل فون قبضے میں لیے جانے کے طریقہ کار اور اس معاملے میں ICC یا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی متعلقہ اتھارٹیز کے علم سے متعلق رہنمائی طلب کی تھی۔