Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

زرمبادلہ ذخائر 4 ماہ کی درآمدات تک لے جانے کا ہدف مقرر، گورنر اسٹیٹ بینک

کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بھی بحال ہوا ہے

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ترسیلاتِ زر کو بینکنگ چینل کے ذریعے لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر 31 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 41 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

اسٹیٹ بینک میں پاسبان ریمیٹینس ریوارڈ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ نئی اسکیم لانچ کرنے جا رہے ہیں، جبکہ جولائی میں بھی اس حوالے سے پریس کانفرنس کی گئی تھی۔ سابق سونی دھرتی پروگرام کے تحت بیرون ملک پاکستانیوں کو پوائنٹس دیے جاتے تھے، جبکہ نئی اسکیم کا مقصد بھی ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملک میں رقوم بھیجنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 2022 میں پاکستان کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا تھا، مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی جبکہ بیرونی ادائیگیوں کا توازن بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ اس وقت درآمدات کا دباؤ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہت زیادہ تھا، جس کے باعث درآمدات پر پابندیاں عائد کرنا پڑیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2022 میں تقریباً 90 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں 18 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، جبکہ خسارہ پورا کرنے کے لیے 8 ارب ڈالر مارکیٹ میں فراہم کیے گئے۔ مالی سال 2023 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صرف 0.23 فیصد کے برابر رہا، جس کے بعد درآمدات پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کی گئیں۔

جمیل احمد کے مطابق اس کے بعد ملک میں ڈالرز کے انفلوز بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا، تاہم ترسیلاتِ زر پر خصوصی توجہ دی گئی اور انہیں بینکنگ چینل کے ذریعے ملک میں لانے کے لیے اقدامات کیے گئے۔ ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی گئی۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے اور گزشتہ ماہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں 100 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی کرنسی کچھ عرصے سے مستحکم ہے جبکہ دو ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے۔ ملک کے آؤٹ فلوز اب 2022 کی سطح پر آ چکے ہیں اور اس وقت انفلوز اور آؤٹ فلوز تقریباً برابر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال درآمدات تقریباً 65 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے ایک فیصد جی ڈی پی کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ اسٹیٹ بینک کی توجہ انفلوز بڑھانے پر مکمل طور پر مرکوز ہے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ گزشتہ سال اسٹیٹ بینک نے 9 ارب ڈالر کی خریداری کی۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے زائد جبکہ مجموعی ملکی زرمبادلہ ذخائر 27 ارب ڈالر ہیں، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ زرمبادلہ ذخائر کو چار ماہ کی درآمدات کے برابر لانے کا ہدف ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا کیا گیا، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کے نتیجے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ حکومت نے برآمد کنندگان کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کے مسائل حل کرنے پر بھی کام کیا ہے۔