Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بھارت اب کوئی غلطی نہ کرے، وزیر اعظم کا اقوام متحدہ میں بھارت کو دوٹوک پیغام

عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے، شہباز شریف

نیو یارک: وزیر اعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو دوٹوک پیغام دیا اور کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کا پانی سارے خطے کے لیے ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے اپنے میں عالمی امن، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، سعودی عرب کی سلامتی، پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ 24 کروڑ امن پسند عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے اس عظیم ایوان سے چوتھی بار خطاب کرنا ان کے لیے باعث اعزاز ہے جب کہ وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے متحرک قیادت پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو خراج تحسین پیش کیا جب کہ اینا لینا بائر بوک کی بہترین قیادت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔

انہوں نے سورة الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جاؤ‘‘۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ سے متعلق قائداعظم محمد علی جناح کے مشہور قول کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں، دنیا کے امن اور خوشحالی کے ساتھ ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد 2788 کی متفقہ منظوری عالمی امن کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطیٰ کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور معیشتوں کو نقصان پہنچا۔

وزیراعظم کے مطابق جنگ سے آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دباؤ میں آگئے۔ اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا اور اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لا کر تاریخی پیش رفت کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے کئی تاریخی اقدامات کیے گئے۔ وزیراعظم نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر خدمات پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر، چین اور دیگر دوست ممالک کی امن کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ افسوسناک طور پر امن دشمن کارروائیوں سے ایک بار پھر خطرناک اضافہ ہوا ہے، میزائل، ڈرونز اور بندوقوں کے شور کے درمیان سفارت کاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی معیشت کے مراکز آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے۔ انہوں نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔

شہباز شریف کہتے ہیں کہ حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حرمین شریفین ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ علاقائی امن و استحکام کا ضامن ہے۔ شہباز شریف کے مطابق تینوں ملکوں کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں، دفاعی معاہدہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہمارا اجتماعی عزم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان کو بھارت کی طرف سے بلااشتعال جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ فیلڈ مارشل کی جرات مندانہ قیادت میں بہادر افواج نے پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ بھرپور جواب دیا۔

شہباز شریف نے کہا ہماری افواج نے دشمن کو خاموش کراتے ہوئے کبھی نہ بھولنے والا سبق بھی سکھایا۔ وزیراعظم نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بروقت مداخلت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی پرعزم اور بصیرت افروز قیادت پر شکریہ ادا کیا۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کا پانی سارے خطے کے لیے ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، بھارت اب کوئی غلطی نہ کرے۔

متعلقہ خبریں