Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

غیر ملکی خاتون سے زیادتی کیس؛ ڈیانا کا عدالت میں دیا گیا بیان منظر عام پر آگیا

ڈیانا نے مبینہ طور پر تین افراد کی جانب سے زیادتی اور دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

لاہور: غیر ملکی خاتون ڈیانا کا عدالت کے روبرو دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آگیا جس میں انہوں نے مبینہ طور پر تین افراد کی جانب سے زیادتی اور دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے۔

عدالت نے ڈیانا سے نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا نام ڈیانا ہے جس پر عدالت نے سوال کیا کہ کیا انہیں معلوم ہے کہ وہ عدالت کے سامنے کیوں پیش ہوئی ہیں؟ ڈیانا نے جواب دیا کہ جی ہاں انہیں معلوم ہے۔

ڈیانا نے عدالت کے روبرو دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی خواہش ظاہر کی۔ عدالت نے انہیں آگاہ کیا کہ ریکارڈ کرایا جانے والا بیان ان کے خلاف بھی بطور ثبوت استعمال ہوسکتا ہے تاہم آگاہ کیے جانے کے باوجود ڈیانا نے بیان ریکارڈ کرانے پر اصرار کیا۔

عدالت نے اطمینان کیا کہ ڈیانا بغیر کسی دباؤ یا ترغیب کے رضاکارانہ طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرارہی ہیں۔

ڈیانا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پاکستان آئیں اور پانچ روز فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور پہنچیں۔ ان کا منصوبہ اسکردو جانے کا تھا تاہم وہ اکیلی تھیں، اس لیے انہوں نے نمرہ اور مسکان کو پیغام بھیجا کہ لاہور میں ملاقات کرتے ہیں۔

ڈیانا نے بتایا کہ رات 11 بجے وہ اکیلی ایک کیفے گئیں جہاں مسکان ان کے پاس آئی۔ انہوں نے مسکان سے کہا کہ کھانا کھاؤ اور کافی پیو تاہم مسکان نے بتایا کہ اس کی دوست نمرہ انتظار کررہی ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مطابق وہ مسکان کے ساتھ بحریہ ٹاؤن گئیں جہاں رات تقریباً 2 بجے سفید رنگ کی ایک گاڑی آئی۔ گاڑی میں احمد اور محسن نامی دو لڑکے سوار تھے جس کے بعد وہ ایک اپارٹمنٹ میں گئے اور کھانا کھایا۔

ڈیانا نے بیان میں کہا کہ وہاں مزید دو لڑکے آئے جن میں سے ایک کا نام علی زین تھا جب کہ دوسرے کے نام کا انہیں علم نہیں۔

ڈیانا نے بتایا کہ نمرہ اور محسن الگ کمرے میں بات کرنے گئے جب کہ مسکان بھی ان کے پاس چلی گئی۔ نمرہ نے محسن سے 20 سے 30 ہزار روپے لیے اور انہیں بتایا کہ یہ پارٹی کے لیے ہیں۔

ڈیانا کے مطابق انہوں نے کہا کہ انہیں پیسوں اور شراب کی ضرورت نہیں ہے جس کے بعد محسن نے انہیں چھونے کی کوشش کی اور الگ کمرے میں بند کردیا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب انہوں نے نمرہ اور مسکان کے بارے میں پوچھا تو انہیں بتایا گیا کہ وہ جاچکی ہیں۔ انہوں نے جانے کی اجازت مانگی تو کہا گیا کہ وہ نہیں جاسکتیں کیونکہ ان کی دوست پیسے لے گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ 30 ہزار روپے دے دیتی ہیں تاہم علی زین نے انہیں دھمکی دی اور بلیک میل کیا۔ انہیں کہا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شراب پیئیں، اس کے بعد انہیں جانے دیا جائے گا۔ ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد محسن، احمد اور علی زین نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔

ڈیانا نے بیان میں مزید کہا کہ بعد میں انہیں گاڑی میں بٹھایا گیا، محسن گاڑی چلارہا تھا، احمد بھی گاڑی میں موجود تھا جب کہ علی زین ان کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ان کے بیگ میں 2 لاکھ پاکستانی روپے، ایک آئی فون 13 پرو میکس اور ایک ریڈمی فون تھا تاہم ان کے کہنے کے باوجود بیگ ان کے حوالے نہیں کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان افراد نے کہا کہ بیگ واپس کردیا جائے گا لیکن پولیس میں شکایت نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، وہ واپس جارہی ہیں تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کو سب کچھ بتائیں گی جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ پہلے پولیس کو شکایت کرو پھر دیکھتے ہیں تمہارے ساتھ کیا کرنا ہے۔

ڈیانا نے بیان میں مزید بتایا کہ احمد اور علی زین نے گاڑی کا دروازہ کھول کر انہیں دھکا دے دیا۔ انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے کہا کہ 15 پر کال کرنی ہے، لوگوں نے ان کی مدد کی اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

متعلقہ خبریں