Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

پاکستانی فضائی حدود کی بندش، بھارت متبادل روٹ کے لیے چین کے سامنے گڑگڑانے پر مجبور

پاکستانی فضائی حدود بھارت کے لیے شمالی امریکا اور یورپ جانے کا مختصر ترین فضائی راستہ ہے

پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئرلائنز کو اربوں روپے کے نقصان اور پروازوں کے دورانیے میں اضافے کا سامنا ہے بھارت نے یورپ اور شمالی امریکا جانے والی پروازوں کے لیے چین سے سنکیانگ کے راستے متبادل فضائی روٹ فراہم کرنے کی درخواست کردی۔

معلومات کے مطابق پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرسکنے کے باعث بھارتی ایئرلائنز کو مغرب کی جانب جانے والی پروازوں کے لیے طویل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن کے اخراجات، عملے کے ڈیوٹی آورز اور آپریشنل لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت نے چین سے درخواست کی ہے کہ اس کے طیاروں کو سنکیانگ کے راستے کرغزستان پہنچنے اور وہاں سے یورپ، برطانیہ اور امریکا جانے کی اجازت دی جائے۔ چین کی جانب سے اجازت ملنے کی صورت میں بھارتی ایئرلائنز کو متبادل فضائی راستہ میسر آسکتا ہے۔

پاکستانی فضائی حدود بھارت کے لیے شمالی امریکا اور یورپ جانے کا مختصر ترین فضائی راستہ ہے، تاہم پہلگام واقعے کے بعد پاکستان نے 25 اپریل 2025 کو بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں۔ اس پابندی کے باعث مغرب کی جانب جانے والی بھارتی پروازوں کو پہلے جنوب میں مسقط کی طرف جانا پڑتا ہے، جہاں سے وہ شمال مغرب کا رخ کرتی ہیں۔

معلومات کے مطابق اس متبادل راستے کے باعث بھارتی پروازوں کے دورانیے میں اوسطاً 2 گھنٹے 45 منٹ کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ دہلی سے استنبول جانے والی انڈیگو کی پرواز کا دورانیہ 8 گھنٹے 39 منٹ تک پہنچ گیا ہے، اس کے مقابلے میں ترک ایئرلائنز کی پرواز تقریباً 6 گھنٹے میں منزل پر پہنچتی ہے۔

اسی طرح ایئر انڈیا کی دہلی سے شکاگو جانے والی پرواز کا دورانیہ پہلے 14 گھنٹے 47 منٹ تھا، جو طویل راستے کے باعث بڑھ کر تقریباً 19 گھنٹے ہوگیا ہے۔ طویل پروازوں کے نتیجے میں ایندھن کی کھپت بڑھنے کے ساتھ عملے کے ڈیوٹی اوقات میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ بعض پروازوں کے لیے راستے میں ایندھن بھرنے کے اضافی اسٹاپ بھی درکار ہوتے ہیں۔

بھارتی ایئرلائنز کی مشکلات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایئر انڈیا نے نومبر 2025 میں پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث سالانہ قبل از ٹیکس منافع میں 455 ملین ڈالر کی کمی کا تخمینہ پیش کیا تھا، جبکہ سابق سی ای او نے 2025 میں تقریباً 4 ہزار کروڑ بھارتی روپے کے نقصان کا اندازہ بھی ظاہر کیا تھا۔

دوسری جانب یکم ستمبر 2025 سے ایئر انڈیا کی نئی دہلی، واشنگٹن براہ راست پرواز بھی معطل ہے، جس کی وجوہ میں طویل فضائی راستوں اور آپریشنل پیچیدگیوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

بھارتی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے 29 ستمبر 2026 کو تصدیق کی کہ چین کے ساتھ سنکیانگ کے علاقے ہوتان سے متبادل فضائی راستے پر بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی تک چین کی منظوری یا روٹ کھولنے کی کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔

متعلقہ خبریں