اٹلی کے مختلف شہروں میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی، میلان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔
میلان کے تاریخی علاقے پیازا ڈوومو میں مظاہرین نے دکانوں کو نقصان پہنچایا اور پولیس پر اشیا پھینکیں، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
میلان کے علاوہ ٹورین اور بولونیا میں بھی کشیدگی دیکھی گئی، جبکہ طلبہ نے تعلیمی اداروں کے مسائل، تعلیم کے لیے زیادہ فنڈز اور جنگی اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے۔
رپورٹس کے مطابق میلان میں ہفتے سے جاری واقعات کے دوران 200 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، تاہم مختلف رپورٹس میں گرفتاریوں اور حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔
وزیراعظم جارجیا میلونی نے صورتحال پر غور کے لیے آج حکومتی سیکیورٹی اجلاس طلب کرلیا، جبکہ میلان کے میئر نے تشدد اور شہری املاک کو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتے ہوئے امن و امان کی بحالی پر زور دیا ہے۔


















