Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

افغانستان کو 8 ارب ڈالر امداد، 91 فیصد رقم کا ریکارڈ غائب، رپورٹ

اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد کے باوجود افغانستان میں غربت اور معاشی مشکلات برقرار ہیں

طالبان رجیم کے زیرِ تسلط افغانستان کو گزشتہ پانچ برس کے دوران انسانی امداد کے نام پر فراہم کیے گئے 8 ارب ڈالر کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ اس رقم کے 91 فیصد حصے کی منتقلی اور استعمال کی تفصیلات عوامی ریکارڈ میں موجود نہیں۔ کابل انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق امدادی رقوم کے استعمال سے متعلق شفافیت کا فقدان سنگین تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں افغانستان کے لیے مختلف بین الاقوامی اداروں کو انسانی امداد کی مد میں 8 ارب ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں امریکا، برطانیہ اور جرمنی سرفہرست ڈونرز میں شامل ہیں۔ تاہم، اس بھاری امداد میں سے صرف 2 کروڑ 19 لاکھ ڈالر کی رقم کی منتقلی کا سراغ مل سکا، جو کسی بین الاقوامی ادارے سے دوسرے وصول کنندہ ادارے کو منتقل کی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 1.42 ارب ڈالر مالیت کی 316 ادائیگیوں میں وصول کنندگان کے ناموں کے سامنے ’’خفیہ‘‘ درج ہے، جس سے امدادی رقوم کی تقسیم اور ان کے اصل مستفید ہونے والوں کے بارے میں شفافیت کے سوالات جنم لیتے ہیں۔

انسانی امداد کے علاوہ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں نے افغانستان میں 1,208 منصوبوں کے لیے 12 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے بھی کیے۔ ماہرین کے مطابق یہ رقوم طالبان رجیم کو براہِ راست ملنے والی اربوں ڈالر کی گرانٹس سے الگ ہیں، جس سے افغانستان کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت کا حجم مزید بڑھ جاتا ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے تناظر میں امدادی رقوم کی نگرانی، ان کے درست استعمال اور مستحق افغان شہریوں تک ان کی رسائی کے مؤثر نظام کی ضرورت نمایاں ہوتی ہے۔ اربوں ڈالر کی بین الاقوامی امداد کے باوجود افغانستان میں غربت اور معاشی مشکلات برقرار ہیں، جبکہ لاکھوں افغان شہری بہتر معاشی مستقبل کی تلاش میں دوسرے ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ صورتِ حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اتنی بڑی بین الاقوامی امداد کے باوجود افغان عوام کی زندگیوں میں خاطرخواہ بہتری کیوں نہیں آ سکی۔ امداد کی تقسیم، اخراجات کی تفصیلات اور مستحقین تک رقوم کی رسائی کا قابلِ تصدیق ریکارڈ سامنے لائے بغیر نہ صرف ڈونرز کے اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ انسانی امداد کے اصل مقاصد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ البتہ رپورٹ میں رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ دستیاب نہ ہونے کو بذاتِ خود مالی بدعنوانی یا طالبان رجیم کی جانب سے امداد کے غلط استعمال کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

متعلقہ خبریں