معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ رات گئے گھر میں داخل ہونے والے اہلکار اقرار الحسن کو اپنے ساتھ لے گئے جبکہ گھر میں توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔
اقرار الحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے بتایا کہ کارروائی کے وقت گھر کے تمام افراد سو رہے تھے کہ اسی دوران کچھ افراد مرکزی گیٹ اور دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے، اہلکاروں نے گھر کے مختلف کمروں میں جا کر موبائل فونز اور آئی پیڈ سمیت دیگر الیکٹرانک آلات قبضے میں لے لیے جبکہ ان سے بھی موبائل فون چھین لیا گیا۔
View this post on Instagram
فرح اقرار کا کہنا ہے کہ کارروائی میں خواتین اہلکار بھی شامل تھیں جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کا نام درج تھا۔ گھر میں نصب ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور سیکیورٹی سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا جس کے باعث واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے بھی واقعے سے متعلق بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ رات تقریباً 2 بجے پانچ سے سات مرد اور دو خواتین زبردستی گھر میں داخل ہوئے اور اقرار الحسن کو دو گاڑیوں میں اپنے ساتھ لے گئے۔
View this post on Instagram
قرۃ العین کے مطابق واقعے کے وقت ڈی ایچ اے سیکیورٹی موجود تھی تاہم اس نے کوئی کارروائی نہیں کی، پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دینے کے باوجود پولیس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تھانے میں رپورٹ درج کرانے کے لیے رابطہ کیا گیا تو پولیس نے وائی فائی کی عدم دستیابی کا جواز پیش کرتے ہوئے رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا۔
قرۃ العین نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقرار الحسن گزشتہ 20 برس سے بااثر افراد کو بے نقاب کرتے آرہے ہیں لیکن اب ان کے اپنے گھر میں یہ واقعہ پیش آیا جسے ان کے معصوم بیٹے نے بھی دیکھا۔
View this post on Instagram
















