Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

رضوان کا موبائل فرانزک معائنہ کیوں رکا؟ تحقیقات میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی

محمد رضوان اور امام الحق رواں ماہ کے آغاز میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تھے

قومی کرکٹر محمد رضوان کی مبینہ عدم تعاون کے باعث این سی سی آئی اے کی تحقیقات تاخیر کا شکار ہو گیا ہے جبکہ موبائل فون کا فرانزک معائنہ بھی التوا میں پڑ گیا۔

ذرائع کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے محمد رضوان سے تحقیقات میں تعاون کے لیے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم تاحال مثبت جواب نہیں ملا۔ بعض اوقات رضوان سے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا، جبکہ بعض مواقع پر انہوں نے ایجنسی کو بتایا کہ وہ جواب دینے سے پہلے اپنے وکیل سے مشاورت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی پیر کو ایک بار پھر محمد رضوان سے رابطہ کرے گی اور تحقیقات میں تعاون کی درخواست کرے گی۔ تعاون نہ کرنے کی صورت میں انہیں نوٹس جاری کرنے اور قانون کے مطابق مزید کارروائی پر غور کیا جاسکتا ہے۔

این سی سی آئی اے کی تحقیقات کا آغاز انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد محمد رضوان اور امام الحق کے موبائل فون تحویل میں لیے جانے کے بعد ہوا تھا۔ تحقیقات کا تعلق پاکستان کرکٹ میں آن لائن بیٹنگ اور جوئے کے معاملات سے ہے، جبکہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران ڈریسنگ روم کی معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے کے پہلو کا بھی ذکر سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق رواں ماہ کے آغاز میں لاہور میں این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ تحقیقاتی ٹیم نے رضوان سے مختلف رابطوں کے حوالے سے سوالات بھی کیے، تاہم بعض جوابات تسلی بخش نہیں سمجھے گئے، جس کے بعد مزید وضاحت اور شکوک دور کرنے کے لیے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ ضروری قرار دیا گیا۔

حکام کے مطابق رضوان کے موبائل فون کا فرانزک معائنہ ان کی موجودگی میں کیا جانا ہے، اس لیے ان کی دستیابی ضروری ہے۔ متبادل طریقے سے بھی معائنہ ممکن ہے، تاہم اس صورت میں ڈیٹا ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ ایجنسی نے رضوان کو یہ سہولت بھی دینے کی پیشکش کی ہے کہ اگر وہ دفتر نہیں آسکتے تو تحقیقاتی ٹیم ان کے پاس جا سکتی ہے۔

دوسری جانب امام الحق نے ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد تحقیقات میں تعاون شروع کردیا ہے اور ان کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ جاری ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) بھی تشکیل دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور تاحال دونوں کرکٹرز کے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ مشتبہ مواد سائبر پٹرولنگ کے دوران سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئی تھیں اور تمام کارروائی قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔

این سی سی آئی اے ذرائع کے مطابق تحقیقات کا مقصد حقائق سامنے لانا اور اگر کوئی خلاف ورزی ثابت نہ ہو تو کرکٹرز کو جلد از جلد کلیئر کرنا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس تحقیقات کا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے ضابطہ اخلاق سے کوئی تصادم نہیں، جبکہ نہ این سی سی آئی اے اور نہ ہی آئی سی سی نے اس معاملے پر ایک دوسرے سے رابطہ کیا ہے۔

ادھر محمد رضوان کے قریبی ذرائع نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کرکٹر کو تاحال کوئی نیا نوٹس موصول نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پہلا نوٹس بھی واٹس ایپ کے ذریعے ملا تھا، جبکہ رضوان کی جانب سے این سی سی آئی اے کو بھیجے گئے سوالات کے جوابات بھی نہیں دیے گئے۔ ان سوالات میں الزامات کی نوعیت، طلبی کی وجہ اور ساتھ کسی شخص کو لے جانے کی اجازت سے متعلق وضاحت طلب کی گئی تھی۔

رضوان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ قانون کے مطابق نوٹس موصول ہونے پر این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوں گے۔ دوسری جانب ایجنسی ذرائع نے سوشل میڈیا پر جاری مہم کو کرکٹر کے مفاد میں نہ ہونے کا مؤقف بھی اختیار کیا ہے۔