Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آنکھ پھڑکنے کی چند اہم وجوہات جنہیں کم لوگ ہی جانتے ہیں

آنکھ پھڑکنا زیادہ تر جسم میں کسی وقتی عدم توازن یا طرزِ زندگی میں بے اعتدالی کا نتیجہ ہوتا ہے

آنکھ پڑکھنے کو اکثر توہمات سے جوڑا جاتا ہے دائیں یا بائیں آنکھ پھڑکنے کو اچھا یا برا ہونے کی علامت سمجھا جاتا ہے تاہم ایسا ہرگز نہیں ہے ماہرین کے مطابق آنکھ کا پھڑکنا ایک عام مگر قابلِ توجہ طبی مسئلہ ہے جسے آئی لِڈ مایوکیمیا کہا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں پلکوں کے پٹھوں میں غیر ارادی حرکت ہوتی ہے جو عموماً وقتی اور بے ضرر ہوتی ہے تاہم متاثرہ فرد کو اس کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے جبکہ دیگر افراد کو اکثر یہ واضح طور پر نظر نہیں آتی۔

طبی ماہرین کے مطابق آنکھ پھڑکنا زیادہ تر جسم میں کسی وقتی عدم توازن یا طرزِ زندگی میں بے اعتدالی کا نتیجہ ہوتا ہے،اور اکثر معمولی احتیاط سے خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

ماہرین نے اس کیفیت کی چند نمایاں وجوہات بیان کی ہیں ذہنی دباؤ اور بے چینی اس مسئلے کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے،کیونکہ زیادہ اسٹریس پٹھوں میں تناؤ پیدا کر کے اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے جس سے پلکوں میں حرکت شروع ہو جاتی ہے۔

اسی طرح نیند کی کمی اور مسلسل تھکن بھی آنکھوں کے پٹھوں پر دباؤ ڈالتی ہے جس کے نتیجے میں پلکوں میں جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آنکھوں کی تھکاوٹ کیسے دور کریں؟

کیفین اور دیگر محرک اشیاء جیسے چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال اعصابی نظام کو حد سے زیادہ سرگرم کر دیتا ہے جو اس مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔

آنکھوں پر زیادہ دباؤ، خصوصاً طویل وقت تک موبائل، کمپیوٹر یا دیگر اسکرینز کا استعمال بھی اس کیفیت کا سبب بنتا ہے کیونکہ اس سے آنکھوں میں تھکن پیدا ہوتی ہے۔

غذائی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے خاص طور پر میگنیشیئم، پوٹاشیئم اور وٹامن بی 12 کی کمی پٹھوں کے کھنچاؤ سے جڑی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ آنکھوں میں خشکی، الرجی یا فضائی آلودگی کے باعث جلن بھی پلکوں کی غیر ارادی حرکت کو بڑھا سکتی ہے۔

بعض ادویات کے مضر اثرات بھی اس مسئلے کا باعث بن سکتے ہیں خصوصاً وہ ادویات جو اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

اگر آنکھ پھڑکنے کی شکایت طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ بعض نایاب مگر سنجیدہ بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے ان میں بینائن اسینشل بلیفروسپازم شامل ہے جس میں دونوں آنکھیں بے قابو انداز میں بند ہونے لگتی ہیں جبکہ ہیمی فیشل اسپازم میں چہرے کے ایک حصے میں جھٹکے پھیل جاتے ہیں۔

مزید برآں بعض اعصابی امراض جیسے بیلز پالسی، ملٹی پل اسکلروسیس، پارکنسن بیماری اور ٹوریٹ سنڈروم بھی اس کیفیت سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنکھ پھڑکنے کی علامات ایک ہفتے سے زیادہ برقرار رہیں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

سی طرح آنکھ میں سوجن، سرخی، رطوبت، یا آنکھ کا مکمل بند ہونا شروع ہو جائے تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

اگر جھٹکے چہرے یا جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جائیں، یا بینائی میں تبدیلی اور دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو بھی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا اور کیفین کے استعمال میں اعتدال انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ بیشتر کیسز میں یہی سادہ احتیاطی اقدامات آنکھ پھڑکنے کی شکایت کو خود بخود ختم کر دیتے ہیں، تاہم مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں