سال 2022 میں پاکستان میں خواتین پر تشدد خلاف مقدمات میں 2021 کی نسبت ساڑھے 7 ہزار کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی صنفی تشدد کیخلاف قائم عدالتوں میں 22 ہزار560 مقدمات زیرالتو ہیں جبکہ سال 2022ء کے آغاز میں صنفی تشدد کیخلاف 15 ہزار 44 مقدمات زیر التواء تھے۔
سال 2022ء کے آخر تک خواتین پر تشدد کیخلاف 25 ہزار 415 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ پاکستان کی صنفی تشدد کیخلاف عدالتوں نے سال 2022ء میں 17 ہزار 886 کیسز نمٹائے۔
پنجاب میں خواتین پر تشدد کیخلاف سب سے زیادہ 17 ہزار 806 مقدمات زیر التواء ہیں۔ خیبرپختونخواہ میں خواتین پر تشدد کیخلاف 2 ہزار 305 مقدمات زیر التواء ہیں اورسندھ کی عدالتوں میں خواتین پر تشدد کیخلاف ایک ہزار 370 کیسز زیر التواء ہیں۔
بلوچستان میں 143 اور اسلام آباد کی عدالتوں میں خواتین پر تشدد کیخلاف 936 مقدمات زیرالتواء ہیں۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کیخلاف 11 ہزار 156 کیسز نمٹائے گئے جبکہ 14 ہزار 529 زیر التوا کا شکار ہیں۔
خواتین کے اغواء اور فروخت کیخلاف 2 ہزار 119کیسزنمٹائے گئے جبکہ 2286 کیسز زیرالتواءہیں۔ خواتین کے قتل کیخلاف ایک ہزار 58 مقدمات کے فیصلے کئے گئے، 1668 مقدمات زیر التوا ہیں۔
اسی طرح خواتین پر تشدد کیخلاف دائر 2 ہزار 348 کیسز کے فیصلے ہوئے، 2976 مقدمات زیر التواءہیں۔ خواتین کو شادی کا جھانسہ دیکر ناجائز فائدہ اٹھانے کیخلاف 9 مقدمات نمٹائے گئے، 5 زیر التوا ہیں۔
خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم کرنے اور مالی مسائل سے دوچار کرنے کیخلاف 15 مقدمات کے فیصلے ہوئے، 34 زیر التوا ہیں اور خواتین کو ہراساں کرنے کیخلاف 1106 مقدمات نمٹائے گئے، 830 کیسز زیر التواء ہیں۔
سوشل میڈیا کے ذریعے خواتین کو بدنام ، بلیک میل کرنے کیخلاف 75 کیسز کے فیصلے ہوئے جبکہ 232 زیر التوا ہیں۔




















