Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

عدالت نے الیکشن کمیشن کوتاحکم ثانی عمران خان کیخلاف کارروائی سے روک دیا

لاہورہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کوتاحکم ثانی عمران خان کیخلاف کارروائی سے روکتے ہوئے کیس کی سماعت 11جنوری تک ملتوی کردی۔ 

تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کو پارٹی کی سربراہی کےعہدے سے ہٹانے کے نوٹس کے خلاف کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالت نے کہا کہ اسپیکر کے ریفرنس کا الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا یا اسے نمٹایا۔

دورانِ سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ پڑھ کرسنایا۔

لاہور ہاٸی کورٹ نے وفاقی حکومت اوراسپیکر کو درخواست دینے والے اراکین پارلیمنٹ کو فریق بنانے کی ہدایت کردی جس کے بعد عدالتی حکم پرعمران خان کے وکیل نے وفاقی حکومت اوراسپیکر کو درخواست دینے والے اراکین پارلیمنٹ کو فریق بنادیا۔

عدالت نے وفاقی حکومت، الیکشن کمیشن اورعمران خان کی شکایت کرنے والے چھ اراکین پارلیمنٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

جسٹس جواد حسن نے عمران خان کی درخواست پرعبوری فیصلہ سنایا جبکہ عمران خان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفر اور اظہر صدیق نے دلائل دیے۔

وکیل الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ عمران حان نے اپنے اثاثہ جات الیکشن کمیشن سے چھپائے۔ توشہ حانہ کے حوالےسے بھی حقائق کو چھپایا گیا۔ کمیشن کسی بھی پارلیمینٹرین کو آرٹیکل باسٹھ کے تحت نااہل کرسکتا ہے جس پر عدالت نے پوچھا کہ الیکشن کمشن نے کس طرح فیصلہ کیا۔

الیکشن کمیشن کے وکیل نے جواب دیا کہ اس سے پہلے نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے بھی درحواست دائر ہوئی۔ نااہلی کے بعد کوئی پارٹی ہیڈ نہیں رہ سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تاحکم ثانی عمران خان کےخلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا۔

وقفےسے قبل پارٹی چیرمین کے عہدہ سے ہٹانے کی کارروائی کےخلاف کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ عدالت فیصلوں کی روشنی میں اختیارات اور فرائض کاتعین کرے گی۔

 جسٹس جواد حسن نے عمران خان کے وکیل کو الیکشن کمیشن کےاختیارات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کچھ دیرکے لیے ملتوی کی۔

وکیل بیرسٹرعلی ظفرکے دلائل

عمران خان کے وکیل بیرسٹرعلی ظفرنے دلائل میں کہا کہ ایف بی آر قوانین کےتحت 30جون تک سالانہ بنیادوں پر اثاثہ جات ظاہر کرنا ہوتے ہیں۔ عمران خان نے اپنے اثاثہ جات مکمل طور پر ظاہر کئے۔الیکشن کمیشن کے پاس عدالتی اختیارات نہیں ہیں۔

جسٹس جواد حسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کوکہاں چیلنج کیاگیا جس پرعمران خان کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ چیلنج کیاگیا۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیا فیصلہ سنایا۔ بیرسٹرعلی ظفر نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں معاملہ زیر التواء ہے کوئی فیصلہ نہیں آیا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکلاء کو دلائل کےلئے طلب کررکھا ہے۔

عدالت عالیہ نے کہا کہ اس معاملے پرتین مختلف درخواستیں تین مختلف ہائیکورٹس میں آئیں۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جانے پرواپس متعلقہ ہائی کورٹس کو بھجوایا گیا۔ اس کا مطلب آپ کا دروازہ کھلا ہے کہ اپنے دلائل کا آغاز کریں۔ پارٹی کی سربراہی سے ہٹانے کا معاملہ اپنی جگہ پہلے یہ بتایا جائے پارٹی سربراہ بنتا کس قانون کےتحت ہے۔

بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ قانون کےتحت اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار پارٹی سربراہ بنتا ہے۔

جسٹس جواد حسن نے کہا حقائق بتا دیے جاتے ہیں مگر جب پوچھا جاتا ہے کہ قوانین کہاں ہیں تو خاموشی ہوتی ہے۔ عدالت جائزہ لے گی کہ آئین میں الیکشن کمیشن کے کیا اختیارات ہیں۔

بیرسٹرعلی ظفر نے کہا کہ آئین کےتحت الیکشن کمیشن کا کام صرف انتخابات کرانا ہے۔

عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہوگا کہ الیکشن کمیشن بنایا کیوں گیا تھا اس کے مقاصد کیا تھے۔ آپ سب کےدلائل سن کے الیکشن کمیشن کو مضبوط کرتے ہیں۔یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن کےجوابات سے الیکشن کمیشن کے اختیارات طے ہونا ضروری ہے۔

وکیل عمران خان نے کہا کہ آئین کےمطابق کرپشن کے الزامات کا معاملہ ٹرائل عدالت جائے گا۔

عدالت نے کہا کہ جوبات آئین میں نہیں اس پرقانون کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہاں الیکشن کمیشن پھنستا ہے کہ وہ بتائے کہ قانون کا استعمال کیسے کیا۔

متعلقہ خبریں