سپریم کورٹ نے سیکریٹری ریلوے سے دو ہفتوں میں ریلوے زمین کی لیز سے متعلق مفصل رپورٹ طلب کر لی۔
عدالتِ عظمٰی نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیا کہ رپورٹ میں ریلوے کی زمین کی تمام تفصیلات اور مستقبل کی پلاننگ شامل ہونی چاہیے۔
سیکریٹری ریلوے مظفررانجھا عدالت میں پیش ہوئے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ کراچی میں ایک بنچ نے آرڈر دیا تھا کہ ریلوے کی زمین کا ایک انچ لیز نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ریلوے اسٹیشن شہر کا دل ہوتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن میں ہوٹل، ریسٹورنٹ اور شاپنگ سنٹر ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ مسافروں کو شاپنگ کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے ہاں ریلوے ٹریک کے پچاس فٹ کے فاصلے پر رہائشی علاقے ہیں۔ خانیوال، لاہورٹریک پرایک رکشا ٹرین کی زد میں آنے سے دو لوگ مر گئے تھے، آپ کی ریلوے لائن محفوظ نہیں ہے۔ آپ کی موٹروے محفوظ ہے وہاں ہر کوئی ایسے نہیں جا سکتا۔
سیکریٹری ریلوے سے مکالمے میں چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کے پاس ریلوے کی زمین کی لیزسے متعلق کوئی واضح پلان نہیں ہے۔
جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ ریلوے کی زمین پر رہائشی کالونی بنانے کی کوشش کی گئی۔ سپریم کورٹ نے مداخلت کر کے رہائشی کالونی بنانے سے روکا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کوئٹہ میں ریلوے کے تمام کوارٹر فروخت کر دیے گئے۔ جبکہ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ریلوے کی زمین کا تمام عمل شفاف ہونا چاہیے۔ لیز کے عمل کا آڈیٹر جنرل سے آڈٹ بھی ہونا چاہیے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مسائل کی ایک وجہ یہ بھی ہے لوگ سول کورٹ سے سٹے آرڈر لے آتے ہیں جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ ایک مفصل رپورٹ جمع کرائیں جس میں لیز سے متعلق پروپوزل شامل ہو۔
سیکرٹری ریلوے مظفر رانجھا نے بتایا کہ ریلوے کی آمدن کے تین ذرائع ہیں، مسافر ٹرین، فریٹ ٹرین اور زمین کی لیزنگ سے ریونیو حاصل کیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھی یہی کیا جاتا ہے۔
سکریٹری ریلوے نے بتایا کہ ہماری زمین بیکار پڑی ہے اس کا استعمال نہیں کیا جا رہا، ہم ریلوے کی زمین کو آمدن کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔
جسٹس اعجازالاحسن نے استفسارکیا کہ فریٹ ٹرین سے ریلوے کو مجموعی طور پر کتنی آمدن ہوتی ہے؟




















