Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان حکومت کو ایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کیلئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کوایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کیلئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ میں کوئٹہ اسٹون کرشنگ پلانٹس کی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے بلوچستان حکومت کوایک ماہ میں کرشنگ پلانٹس کیلئے جگہ فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ میں کرشنگ کیلئے جگہ مختص نہیں ہوئی تو چیف سیکریٹری پیش ہوکر وجوہات سے آگاہ کریں۔

جسٹس عائشہ نے کہا کہ گزشتہ سماعت پرعدالت نے وائلڈ لائف پارکس نوٹیفائی کرنے کا کہا تھا۔ صوبائی حکومت پارکس کی جگہ نوٹیفائی نہیں کرپا ہورہی اور کرشرز کو دوسری جگہ دے نہیں رہے ہیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ عدالت سے گزارش ہے ہمیں وقت دے تاکہ کرشرزکو بلا کر معاملے کا حل نکالیں جس پر جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کرشنگ پلانٹ مالکان سالوں سے انتظار کر رہے ہیں اور آپ سے ابھی تک معاملہ حل نہیں ہوا۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے کہا کہ ڈائریکٹر مائینز نے کرشرز کے نمائندوں کو بلا کر جگہ دکھائی، کوئٹہ کے نزدیک اور مناسب جگہ دی لیکن کرشرز وہاں جانا نہیں چاہتے ہیں۔

معاملہ حل نہیں ہو رہا ہے کیوں نہ چیف سیکریٹری بلوچستان کو بلا کر پوچھیں۔ لاء آفیسر فیصلہ نہیں کرسکتے تو چیف جسٹس سیکریٹری ذمہ دار ہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کرشرزنے کاروبار کرنا ہے انہیں صوبائی حکومت جگہ بتائے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے استدعا کی کہ عدالت ایک ماہ کے بجائے دو ماہ کا وقت دے، جس پر چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ زیادہ وقت نہیں دے سکتے اس طرح تو صوبائی حکومت کا امیج خراب ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں