حلیم عادل شیخ کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے سیکیورٹی پرماموراسپیشل کمانڈوز سمیت تمام تفصیلات طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں تحریکِ انصاف کے رہنما و اپوزیشن لیڈرسندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران عدالت نے قانون کے مطابق سیکیورٹی فراہم نہ کرنے پرسندھ حکومت پر اظہاربرہمی کرتے ہوئے سیکریٹری داخلہ سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس وقت کمانڈوز کی سیکیورٹی کس کو فراہم ہے اس کی پوری فہرست پیش کی جائے۔ وی آئی پیز کی نقل و حرکت سمیت ان کے خاندان کی حفاظت کے لئے تعینات سیکیورٹی کے تفصیلات پیش کی جائے۔
جسٹس نمعت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ سیکیورٹی پرماموراسپیشل کمانڈوز سمیت تمام تفصیلات 30 جنوری کو پیش کریں۔
ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے مؤقف پیش کیا کہ وزیراعلیٰ کے بعد اپوزیشن لیڈر صوبے میں سب سے بڑا عہدہ ہے، حلیم عادل شیخ کو سیکیورٹی تھریڈ کے باوجود صرف چاراہلکار فراہم کیے گئے ہیں۔
عدالت نے سرکاری وکیل سے کہا کہ ہم نے حکم دیا تھا کہ کن کن کو اور کیوں سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے اس کا جواب دیں۔
ناکمل جواب جمع کرانے پرجسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونےا ظہار برہمی کیا۔
ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ حکومت نے غیر منتخب رہنماؤں کو دس دس پولیس اہلکاروں کی سیکیورٹی فراہم کررکھی ہے۔
وکیل حلیم عادل شیخ نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کا کیس تھرٹ کمیٹی کو نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ تھریڈ کمیٹی نے کئی ماہ گزرنے کے باوجود فیصلہ نہیں کیا۔ کل رات لوکل باڈیز الیکشن سیکیورٹی خدشات کے باعث ملتوی کردیے گئے۔
جسٹس نمعت اللہ پھلپھوٹو نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ تھریڈ کمیٹی کا سربراہ کون ہے؟ جس پرسرکاری وکیل نے جواب دیا کہ سیکریٹری داخلہ سندھ تھریڈ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
عدالت نے کہا کہ ہم سیکریٹری داخلہ کو طلب کرکے وضاحت لے لیتے ہیں۔




















