سپریم کورٹ نے محکمہ زراعت میں کرپشن کے الزامات پر برطرف ملازم منظر خان کی اپیل خارج کردی۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران برطرف ملازم منظرخان چیف جسٹس کی عدالت میں آبدیدہ ہوگیا اورعدالت سے استدعا کی کہ میری 22 سال کی سروس ہے مجھے کم ازکم پنشن ہی دے دی جائے۔
منظر خان نے عدالت سے استدعا کی کہ میری بیٹیاں ہیں میرے حال پر رحم کریں جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کو 2006 میں نوکری سے برطرف کیا گیا۔ آپ نے برطرفی کے خلاف اپیل کیلئے 14 سال کیوں انتظار کیا؟
عدالتِ عظم نے کہا کہ آپ کی اپیل ٹریبونل اورسپریم کورٹ میں زائد المعیاد ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے برطرف ملازم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پر محکمہ میں ساڑھے 4 کروڑ کرپشن کا الزام لگا۔ آپ نے نیب عدالت کے مقدمہ کی دستاویزات بھی نہیں لگائے۔
برطرف ملازم منظر خان نے جواب دیا کہ احتساب عدالت نے ریفرنس نیب کو واپس بھیج دیا تھا۔ جس پر جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ کو احتساب عدالت کی سزا پر برطرف کیا گیا، اپیل میرٹ پر بھی ناقابل سماعت ہے۔




















