چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے معاملے میں ریمارکس دیے کہ وفاق کو بتانا توہوگا کہ 125 یونین کونسلزکیوں کی گئیں؟
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں 31 دسمبرکو بلدیاتی انتخابات کرانے کے عدالتی حکم کے خلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز پرمشتمل بنچ نے سماعت کی۔
وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل کی سماعت ملتوی کرنے کی استدعا مسترد کی گئی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عامررحمان دستیاب نہیں ہیں، استدعا ہے کہ سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی جائے۔
چیف جسٹس نے وفاق کے وکیل کے رویے پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آپ ایسے نہ کریں۔ یہ میں اپنی ریٹائرمنٹ کے سال 2031 تک ملتوی کردیتا ہوں۔ الیکشن کمیشن نے بھی عدالتی فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔ میں الیکشن کمیشن سے کہتا ہوں کہ وہ پہلے دلائل دے دیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل عبدالرؤف نے انٹراکورٹ اپیل پر دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے اس کیس کے حوالے سے brief facts بیان کرنا چاہتا ہوں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس سے زیادہ بریف فیکٹس کیا ہو سکتے ہیں کہ الیکشن ہونے تھے جو نہیں ہوئے ہیں۔ جب تک بل پاس ہو کر ایکٹ نہیں بنے گا اسے قانون نہیں صرف بل ہی کہا جائے گا۔ یہ فرسٹ امپریشن کا کیس ہے۔ یہ پہلی دفعہ ہی ہوگا کہ کیا لوکل ایریا ہے، کیا تعریف ہے۔
عدالت نے عبدالرؤف وکیل الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ آپ بھی تفصیلی جواب جمع کرائیں ۔ آئندہ سماعت پر فریقین کے وکلا دلائل دیں گے۔
عدالت نے کیس کی سماعت اگلے بدھ تک ملتوی کردی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ آج ہم کمیشن کو الیکشن کا کہہ دیں اور حکومت 125 سے 130یونین کونسلز کردے تو؟ کہیں نہ کہیں پرتوسٹاپ لگانا ہوگا کہ کب حکومت یونین کونسلز کی تعداد بڑھا سکتی ہے۔
عدالت نے کہا کہ اس لیے حکومت سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ کوئی میٹیریل پیش کریں۔
وکیل میاں اسلم نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا عدالتی حکم معطل نہ ہونے کے باعث آج بھی مؤثرہے۔ اگر 31 دسمبر کو الیکشن نہیں ہوئے تو الیکشن کمیشن کو آئندہ کے لیے تو شیڈول دینا چاہئے تھا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے اہم ریمارکس دیے کہ وفاق کو بتانا توہوگا کہ 125 یونین کونسلز کیوں کی گئی، ایک دم آبادی کیسے ذیادہ ہوگئی کہ یونین کونسلز بڑھا دی گئیں۔ کیا ہم پھر پارلیمنٹ سے بل پاس ہونے کا انتظار کریں؟
عدالت نے کہا کہ کیا عدالت کا کام ہے الیکشن کروانا یا نہ کروانا ؟وقت کی قلت کا ہم کہ سکتے ہیں کہ بہت کم تھا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 101 یونین کونسلز سے 125 کیوں کی گئیں۔ تین مہینے میں ایسا کیا ہوگیا کہ یونین کونسلزبڑھائیں گئیں۔ آپ کی درخواست تھی کہ جو حکم آیا الیکشن کروانے کا اس کے مطابق وقت کم تھا؟
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے مذید کہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت سے پوچھا کہ ایک دم 101 سے 125 یونین کونسلز کیوں کی؟۔ وفاقی حکومت نے کیا بتایا ہے کہ 101 یونین کونسلز سے 125 یونین کونسلز کیوں کی ہے۔




















