عدالتِ عالیہ نے فواد چوہدری کے خلاف مقدمات کے معاملے میں آٸندہ سماعت پر وکلا سے دلاٸل طلب کر لیے۔
دوپہر کے وقفے کے بعد لاہور ہائی کورٹ میں رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری کے خلاف مقدمات کی تفصیل کے لیے درخواست پر دوبارہ سماعت ہوئی۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت وکیل فواد چوہدری نے مؤقف پیش کیا کہ پنجاب اور اسلام آباد سے مقدمات کی تفصیل آچکی ہے باقی صوبوں سے نہیں۔
عدالت نے کہا کہ ہم باقی صوبوں سے کیسے منگوا سکتے ہیں، کیا لاہور ہاٸی کورٹ کا داٸرہ اختیار ہے؟ جس پر وکیل فواد چوہدری احمد پنسوتہ نے جواب دیا کہ تمام آٸی جیز وفاق کے ماتحت ہیں۔ عدالت حکم دے کر دیگر صوبوں کے آٸی جیزسے تفصیل منگوا سکتی ے
عدالت نے سماعت آٹھ فروری تک ملتوی کرتے ہوئے آٸندہ سماعت پر فواد چوہدری کے وکلا سے دلاٸل طلب کر لیے۔
جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ وکلا عدالت کی معاونت کریں کہ کیا لاہور ہاٸی کورٹ دوسرے صوبے کی انتظامیہ کو حکم دے سکتی ہے یا نہیں۔
آئی جی پنجاب کو دستخط شدہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
وفقے سے قبل لاہورہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات کیلئے درخواست کی سماعت ہوئی تو عدالت نے سماعت بارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی کی جانب سے رپورٹ پیش کرنے پر اظہار برہمی کیا اورآئی جی پنجاب کو اپنے دستخط کے ساتھ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
آئی جی پنجاب کی جانب سے فواد چوہدری کےخلاف درج تین مقدمات کی رپورٹ عدالت پیش کی گئی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ فواد چوہدری کےخلاف پولیس اسٹیشن منگلا جہلم میں مقدمہ درج ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ فواد چوہدری کےخلاف پولیس اسٹیشن نیو ائیرپورٹ اٹک میں بھی مقدمہ درج ہے اور اُن کے خلاف مدینہ ٹاؤن فیصل آباد میں بھی مقدمہ درج ہے۔
آئی جی اسلام آباد کی جانب سے بھی فواد چوہدری کےخلاف درج دو مقدمات کی رپورٹ عدالت پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ فواد چوہدری کےخلاف تھانہ آبپارہ اسلام آباد اور تھانہ کوہسار میں ایک ایک مقدمہ درج ہے۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے فواد چوہدری کیخلاف درج مقدمات تفصیلات طلب کر رکھی ہیں۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نبیل شہزاد کی درخواست پر سماعت کی۔




















