سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف 20 ارب روپے ہرجانہ کیس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے اعتراض پربنچ تبدیل کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق سابق چیف جسٹس آف سپریم کورٹ افتخار چودھری کی جانب سے چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کے خلاف 20 ارب روپے ہرجانے سے متعلق کیس میں درخواست دائر کی گئی۔
سابق چیف جسٹس پاکستان کی جانب سے درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابرستار پراعتراض عائد کیا گیا، جس کے بعد ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے عبوری حکم کے خلاف درخواست پر سماعت کرنے والا بنچ تبدیل کردیا گیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل بنچ 9 فروری کو سماعت کرے گا۔ اس سے قبل جسٹس میاں گل حسن کی سربراہی میں جسٹس بابرستار بنچ کا حصہ تھے۔
درخواست میں کہا گیا کہ جسٹس بابرستار نے اخبارات میں آرٹیکلز لکھے جس میں میرا نام لے کر جوڈیشل ایکٹوزم پر تنقید کی۔ جسٹس بابر ستار کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں متعصب ہونے کے باعث بنچ سے علیحدگی اختیارکریں۔
عمران خان نے افتخار چودھری پر 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا تھا۔ افتخار چودھری نے دھاندلی الزامات پر 20 ارب روپے ہرجانے کا دعوی دائر کر رکھا ہے۔
ہرجانہ کیس میں ٹرائل کورٹ کے ایک آرڈرکے خلاف درخواست ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ معاملہ ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باعث سیشن کورٹ میں کیس کی کارروائی التوا کا شکار ہے۔




















