تحریکِ انصاف نے نگراں حکومت خیبر پختون خوا کی جانب سے تبادلے اورتعیناتیاں پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیں۔
تفصیلات کے مطابق نگرا حکومت کی جانب سے تبادلے اورتعیناتی کے معاملے پر پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی۔
اسد قیصر کی جانب سے رٹ بیرسٹر گوہرعلی خان نے دائر کی جس میں انھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نگراں حکومت کی جانب سے تبادلے وتعیناتی غیر قانونی ہے، حکومت کی جانب سے تعیناتی وتبادلے شفاف انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہوں گے۔
رہنما پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ نگراں حکومت کے تبادلے اور تعیناتی الیکشن رولز کی خلاف وزری ہے، نگراں حکومت کے ذمہ داری تعیناتی وتبادلے نہیں بلکہ صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں بیریسٹرگوہرعلی خان نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ بھی اس تناظر میں کئی بار احکامات جاری کیے ہیں۔ استدعا ہے کہ نگراں حکومت کی جانب سے تبادلوں اورتعیناتی کا اعلامیہ کالعدم قرار دیا جائے۔
سابق اسپیکرقومی اسمبلی اسد قیصر نے درخواست میں صوبائی حکومت، الیکشن کمیشن اورمحکمہ انتظامیہ کو فریق بنایا ہے۔
عدالت کے باہر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی اور بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کی، شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نگراں حکومت کی جانب سے تبادلے اور تعیناتی اختیارات سے تجاوز ہے، بیوروکریسی کو کام ہی نہیں کرنے دیا جارہا۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ نگراں حکومت الیکشن کرانے کیلئے آتی ہے، حکومت نگراں نہیں بلکہ پی ڈی ایم کی حکومت ہے۔ گورنر ہاؤس سے نگراں حکومت چلائی جارہی ہے۔
شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعلی کو یرغمال بنایا گیا ہے، یہ شفاف انتخابات پر متاثر ہونگے۔ مسلسل آئین کی خلاف وزری ہے، تشویش بڑھ رہی ہے۔ لگ رہا ہے یہ آئین مانتے ہی نہیں، مرضی کے تبادلے و تعیناتی کررہے ہیں۔
بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ اسد قیصر کی جانب سے درخواست دائر کی ہے، اسمبلی تحلیل ہوتے ہی الیکشن کی صورتحال شروع ہو جاتی ہے۔ الیکشن کمشن نے نگراں سیٹ اپ میں تبادلوں و تعیناتی پر پابندی لگائی۔ نگراں حکومت کے ہوتے ہوئے آئین وقانون کے مطابق تبادلے نہیں ہوسکتے۔




















