لاہورہائی کورٹ نے علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال کی نظر بندی کے خلاف درخواست میں اہلیہ سے ملاقات کرانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس شہباز رضوی نے شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے پوتے اور رہنما تحریکِ انصاف ولید اقبال کی نظربندی کے خلاف اُن کی اہلیہ نوریہ رفیق کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست میں ہوم سیکریٹری اور ڈی سی لاہور کو فریق بنایا گیا ہے۔
دائر درخواست میں مؤقف پیش کیا گیا کہ ولید اقبال نے تحریک انصاف کے جیل بھرو تحریک کے تحت خود گرفتاری دی، پولیس ان کو پکڑ کر کیمپ جیل لے گئی۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈی سی لاہورنے نقص امن عامہ کے تحت ولید اقبال کو 30 روز کے لیے نظر بند کر دیا، ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہے اور نہ وہ کسی مقدمہ میں ملوث ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ولید اقبال کی نظر بندی کو کالعدم قرار دے۔
جسٹس شہباز رضوی نے اہلیہ سے ملاقات کرانے کا حکم دیتے ہوئے پنجاب حکومت، جیل انتظامیہ لیہ سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے سماعت 7 مارچ کو جواب طلب کرلیا۔
یہ خبر بھی پڑھیں: لاہورہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کی نظربندی کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے رہنما تحریکِ انصاف اسد عمرکی نظر بندی کے خلاف درخواست واپس لینے کی بنا پر نمٹا دی۔



















