چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کیس میں ریمارکس دیے کہ حکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کو مسلط کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پشاورہائی کورٹ ماحولیاتی آلودگی اورجنگلات کی کٹائی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں سیکرٹری پٹرولیم، سیکرٹری جنگلات، سیکرٹری مائننگ، اے اے جی سید سکندرحیات شاہ، فوکل پرسن محمد علی، طارق شاہ، علی گوہردرانی ایڈوکیٹ اور دیگر محکموں کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیے کہ چترال میں مائننگ کی وجہ سے جنگلات تباہ ہورہے ہیں۔ ماننگ والوں نے دریاؤں، پہاڑوں، جنگلات کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ حکومت نے چترال کو قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ چترال میں نہ سڑکیں ہے اور نہ کوئی سہولیات۔ چترال میں مائننگ کے لئے بلاسٹنگ کی وجہ سے وائلڈ لائف بھی متاثر ہورہا ہے۔
فوکل پرسن محمد علی نے بتایا کہ ہرسال 4 لاکھ سے زائد درخت ایندھن کے لئے کاٹے جاتے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ یہ تو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے سیکرٹری صاحب اس کے لئے کچھ کریں۔
وکیل درخواست گزار علی گوہر درانی نے مؤقف اپنایا کہ چترال میں ایل این جی پلانٹ کی منظوری دی گئی تھی لیکن ابھی تک نہیں لگے۔ جس پرسیکرٹری پٹرول ڈویژن نے بتایا کہ ایل این جی کی ایک پلانٹ لگانے پر 1 ارب خرچ آتا ہے، آپریشنل کرنے پر100 ملین خرچ آئے گا۔
سیکرٹری پٹرولیم نے کہا کہ ایل این جی پلانٹ لگائے گے لیکن سبسڈی نہیں دے سکتے۔ آئی ایم پی کے سخت شرائط ہے, ہم سبسڈی نہیں دے سکتے۔
چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ آئی ایم ایف کو یہی منسٹری ملک میں لائے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے آئی ایم ایف کو مسلط کیا گیا ہے۔ حکومت نے خود کو آئی ایم اپف کے ہاتھوں میں دھکیل دیا ہے۔ ہروقت آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پلائے ہوتے ہیں تو پھر یہی حال ہوگا۔ ہم عوام کے لئے کچھ ریلیف چاہتے ہیں۔
چیف جسٹس قیصررشید خان نے کہا کہ شملہ پہاڑی میں کوئی کمرشل ایکٹیوٹی نہیں ہونی چاہیئے۔ ٹی ایم اے والے ہر جگہ پیسے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایبٹ آباد کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ بہت ہے۔
ایڈوکیٹ جنرل عامر جاویدنے بتایا کہ چترال میں تین ایل این جی پلانٹ لگائے گئے۔ سیکرٹری پٹرولیم سے بات ہوئی۔ تین پلانٹ لگائے جائیں گے 3.5 بلین کی لاگت آئے گی۔
چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے، ہم چاہتے ہیں کہ چترال کے عوام کو کچھ سہولیات ملیں۔ انھوں نے سیکرٹری جنگلات عابد مجید کو ہدایت کی کہ سیکرٹری صاحب جنگلات کی حفاظت کے لئے سخت اقدامات کیے جائے۔ اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ شاید اس کیس میں اس بنچ کا یہ آخری آرڈر شیٹ ہوں۔ آئندہ سماعت پر ہمارے دیگر ججز صاحبان اس کیس کو سنیں گے۔
چیف جسٹس قیصر رشید خان نے سماعت 4 مئی تک ملتوی کردی۔




















