سندھ ہائی کورٹ نے پولیس حکام کو گمشدہ لڑکی کو بازیاب کرانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں ڈیفنس کے بنگلے میں کام کرنے والی کم عمر لڑکی کی گمشدگی کے معاملے میں بیٹی کی بازیابی کے لیے والدین عدالت پہنچ گئے۔
عدالت نے پولیس حکام کو گمشدہ لڑکی کو بازیاب کرانے کا حکم دیا، سماعت کے دوران پولیس حکام نےعدالت میں پیش رفت رپورٹ جمع کرادی۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایک مشکوک نمبرکا معلوم ہوا ہے جس سے لڑکی رمشا بات کیا کرتی تھی۔ مشکوک نمبر کا ریکارڈ حاصل کیا جارہا ہے، جلد مل جائے گا۔
والدہ صغریٰ بی بی کے مطابق 17 دسمبر 2022 کو بیٹی رمشا ڈیفنس فیز فور میں واقع بنگلے کے باہر سے غائب ہوئی۔ بیٹی بنگلے میں کام کرتی تھی۔ بنگلے کی مالکن نے بتایا کہ رمشا گھر سے 10 ہزار روپے لے کربھاگ گئی ہے۔ رشتے داروں سمیت دیگر سے معلومات پر کچھ پتہ نہیں لگ سکا۔
والدہ نے استدعا کی کہ بیٹی کس حال میں ہے کچھ پتہ نہیں۔ میری بچی کو بازیاب کرایا جائے جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 اپریل تک ملتوی کردی۔
دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ شوہر کے بعد بیٹے کی بھی گمشدگی کے کیس میں بشیراں خاتون نے مؤقف پیش کیا کہ شوہر پٹھان ظہورانی کو چار سال پہلے لاپتہ کیا گیا، اب بیٹے عرفان علی ظہورانی کو بھی اٹھا لیا گیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ سی ڈی آر کے لیے خط لکھ دیا، اب یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی خطوط لکھ رہے ہیں۔
جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے کہا کہ ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذاتی دلچسپی لیں، ایس پی سطح کے افسر سے تحقیقات کروائی جائیں۔
عدالت نے چھ ہفتوں میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش کرتے ہوئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رپورٹ طلب کرلی۔




















