سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک نظر ثانی کیس میں وکیل کے ایکٹ اطلاق سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کردیے.
تفصیلات کے مطابق دورانِ سماعت عدالتِ عظمٰی نے کہا کہ سپریم کورٹ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق 184 کے مقدمات کیلئے ہے جس کے بعد سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک نظر ثانی کیس میں وکیل کے ایکٹ اطلاق سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کردیے۔
کیس کی سماعت جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
وکیل منیر پراچہ نے کہا کہ میرے نظرثانی کیس میں ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ نے کل بھی ایک کیس ملتوی کروایا آج اس ایشو کو حل کرنا ہے۔
وکیل نے دلائل دیے کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ میں صرف دو شقوں میں 184(3) کا ذکر ہے۔
وکیل منیر پراچہ نے دلائل دیے کہ ایکٹ کی دیگر شقیں تمام نظرثانی مقدمات پر لاگو ہوں گی جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایکٹ میں کہیں نہیں لکھا کہ اپیل میں آنے والے مقدمات پر بھی یہ لاگو ہو گا۔ بتائیں دیگر شقوں میں 185 کے اطلاق کا کیوں نہیں لکھا گیا ؟ قانون بنانے کا مقصد بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کا تعلق 184(3) کے علاوہ مقدمات پر نہیں ہوتا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے وکیل کو ہدایت کی کہ کیس کے میرٹ پر دلائل دیں۔
وکیل متروکہ وقف املاکنے دلائل دیے کہ وفاقی وزیرکے پاس متروکہ وقف املاک کی جائداد الاٹمنٹ کا حق نہیں تھا۔
جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ سوشل ویلفئیرکا وزیر کیسے متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کرسکتا ہے؟ آپ کی دلیل مان لی تو پھر وفاقی حکومت کا ڈرائیوربھی متروکہ وقف املاک کی زمین الاٹ کرسکے گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسارکیا کہ کیا وفاقی حکومت کا ہر وزیریوں زمین کی الاٹمنٹ کرسکتا ہے؟ ملک میں قانون ہے کوئی بادشاہت نہیں۔ ریاستی جائداد کوئی مال غنیمت نہیں کہ وزیر یوں بانٹ دے۔ قوانین، قواعد جائیدادوں کے تحفظ کیلئے بنائے جاتے ہیں۔ موجودہ کیس میں نہ وزیر کا اختیار تھا نہ قانونی طریقہ کار اپنایا گیا۔
سپریم کورٹ نے متروکہ وقف املاک کی اراضی سے متعلق شہری کی نظرثانی اپیل خارج کردی۔ 22 مارچ 1977 کو اس وقت کے وفاقی وزیر نے زمین شہریوں کو الاٹ کرنے کی منظوری دی تھی۔ زمین الاٹممنٹ کے خلاف متروکہ وقف املاک نے عدالت میں کیس دائر کیا تھا۔




















