Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

گوگل کا صحافی برداری کے لیے اے آئی سے بنا ٹول متعارف کرنے کا اعلان

مصنوعی ذہانت کو جہاں زندگی کے تمام ہی شعبوں میں استعمال کیا جارہا ہے وہی صحافتی میدان میں اس کی کمی خاصی محسوس کی جارہی تھی، تاہم گوگل صحافیوں کی مدد کے لیے اے آئی سے بنا ٹول متعارف کرنے جارہا ہے جو اس ضمن میں کافی کار گر ثابت ہوگا۔

گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے اس ٹول کا ہر گز یہ مقصد نہیں ہے کہ یہ  خبروں کی رپورٹنگ، تحریر یا کورکرنے میں صحافیوں کے ‘ضروری’ کردار کو تبدیل کر دے گا بلکہ یہ ان کی مدد کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔

جنیسس نامی یہ ٹول صحافیوں کو خبروں کے مضامین کی تحقیق کرنے اور لکھنے میں مدد کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ صحافت کے شعبے میں ایک ایسی پیشرفت ہے جو صحافیوں کو کسی قدر پریشان کرسکتی ہے کیونکہ صحافی اس اعصاب شکن ملازمتوں میں کٹوتیوں کا برسوں سے سامنا کر رہے ہیں اب یہ نیا ٹول ان کی ملازمتوں کے لیے خطرہ  بن سکتاہے۔

رپورٹس کے مطابق گوگل کئی میڈیا آؤٹ لیٹس کے کئی چھوٹے پبلیشرز کے ساتھ کام کر رہا ہے، اور صحافیوں کی مدد کرنے کے لیے اے آئی سے چلنے والے ٹولز فراہم کر رہا ہے۔

گوگل کے ترجمان جین کرائیڈر کاکہنا ہے کہ ان کا مقصد صحافیوں کو ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو مختلف طریقے سے استعمال کرنے کا انتخاب دینا ہے جس سے ان کے کام اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو، جیسا کہ گوگل جی میل اورگوگل ڈاکس میں لوگوں کے لیے معاون ٹولزموجود ہیں۔

ان ٹولز کا مقصد صحافیوں کے اپنے مضامین کی رپورٹنگ، تخلیق اور حقائق کی جانچ پڑتال میں ضروری کردار کو تبدیل کرنا نہیں ہے اور نا ہی ایسا کیا جاسکتا ہے۔

اس طرح کی پیشرفت جو اے آئی سے چلنے والے مختلف شعبوں کے لیے پلیٹ فارمز فراہم کر رہی ہے اس کے انسانی ملازمتوں کے لیے خطرات اور فوائد کے بارے ایک نئی  بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹول ہیں، جس نے صارفین کو انسانی تقریر کی نقل کرنے کی صلاحیت سے دنگ کردیا ہے لیکن ساتھ ہی کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، غلط معلومات اور شخصیت کی تبدیلی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز نے سب سے پہلے گوگل کے اس ٹول کے بارے میں آگاہ کیا جسے جینیسس کا نام دیا گیا ہے، نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان نئے ٹول کو ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالک نیوز کارپوریشن سمیت  کئی خبر رساں اداروں کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ گوگل کی پچ کو دیکھنے والے کچھ نیوز ایگزیکٹوز نے اسے “پریشان کن” قرار دیا۔

جب کہ کچھ میڈیا تنظیموں نے تخلیقی اے آئی کا استعمال شروع کر دیا ہے، تاہم یہ نیوز رومز عام طور پر خبر کی درستگی، سرخیوں اور کاپی رائٹ کے خدشات کے پیش نظر خبروں کو جمع کرنے میں اس ٹیکنالوجی کو قبول کرنے میں کسی قدر سست روی سے کام لے رہے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں