بارش کا موسم تقریباً سبھی کو پسند ہوتا ہے، خاص طور پر تب جب شدید گرمی ہو اور اس کے بعد بارش ہو جائے تو بہت سکون ملتا ہے۔
بارش کے موسم میں سکون کے ساتھ تلی ہوئی غذائیں کھانے کا دل بھی بہت چاہتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر بارش میں ہمیں تلی ہوئی اشیا کھانے کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟
بارش کے دوران درجہ حرارت میں کمی آتی ہے تو فطری طور پر ایسی غذاؤں کے استمال کی خواہش بڑھتی ہے جو جسم کو حرارت فراہم کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بارش کے دوران سورج کی روشنی غائب ہونے سے جسم میں سیروٹونین کی سطح کم ہوتی ہے۔
یہ ایک ایسا ہارمون ہے جو مزاج خوشگوار رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور ہمیں انزائٹی اور ڈپریشن سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
یہ دماغی ہارمون کھانے کی خواہش کم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے مگر موسم بدلنے کے بعد اس کی سطح میں اچانک کمی سے بھوک کا احساس ہونے لگتا ہے اور کچھ کھانے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔
زیادہ چکنائی والی غذاؤں میں ایک amino acid ٹرپٹو فان موجود ہوتا ہے جو ہمارا دماغ سیروٹونین بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
تو جب سیروٹونین کی سطح میں کمی آتی ہے تو ہمارا دماغ تیل میں تلی جانے والی غذاؤں کی طلب کرنے لگتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں بارش کے موسم میں تلی ہوئی غذاؤں جیسے پکوڑے، سموسے یا دیگر کھانے کا دل چاہتا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















