Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ نے حکومت کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع کرنے سے روک دیا

سپریم کورٹ نے حکومت کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع کرنے سے روک دیا اورحکم دیا کہ عدالت کو آگاہ کیے بغیر ٹرائل شروع نہ کیے جائیں۔ 

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ فوجی عدالت میں جج سمیت تمام عملہ قانون کے مطابق انصاف کا حلف لیتا ہے، ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جرم ثابت ہوا یا نہیں،

چیف جسٹس کی سربراہی میں چھ رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی۔

اٹارنی جنرل نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت پرعدالت کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا تھا، ہزاروں مظاہرین میں سے صرف 102 کا ٹرائل فوجی عدالت میں کرنے کا فیصلہ ہوا،  فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیلئے انتہائی احتیاط سے ملزمان کو نامزد کیا گیا۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ ملزمان کی سلیکشن کا کیا طریقہ کار اپنایا گیا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جس انداز میں حملے ہوئے اس کا ردعمل بھی سخت ہی ہونا چاہیے، اگر سول نوعیت کا جرم کوئی شہری کرے تو اس پر آرمی ایکٹ لاگو نہیں ہوگا، فوجی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں ہی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے، ترامیم کے مطابق فوجی تنصیبات، ملک کیخلاف اور مذہب کے نام پر فسادات کے ملزمان پر آرمی ایکٹ لاگو ہوگا۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا نجی تنازع پر آرمی اہلکار کو زخمی کرنے والے کا ٹرائل بھی فوجی عدالت میں ہوگا؟ جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی افسر اگر ڈیوٹی پر موجود ہو تو زخمی کرنے والے کا ٹرائل فوجی عدالت میں ہوگا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلینز پر ہوتا تو فوجی عدالتوں کیلئے آئینی ترمیم نہ کرنی پڑتی، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی ترمیم آرمی ایکٹ میں ہونے والی ترامیم کی وجہ سے کی گئی تھی۔

جسٹس منیب اختربولے کہ ریاست چاہے بھی تو شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کرسکتی، کیا حالت جنگ کی تھیوری بنیادی حقوق کو ختم کرسکتی ہے؟ ایسا ممکن نہیں ہے کہ جب چاہا بنیادی حقوق فراہم کر دیے جب چاہا واپس لے لیے۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ اور ایگزیکٹو کا دائرہ اختیار الگ الگ ہے، فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ آرٹیکل 175(3) ہے، عدالتوں کا کام بنیادی حقوق کی فراہمی اور تحفظ کرنا ہے نا کہ ختم کرنا، آئین میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم واضح ہے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ان سوالات کے جواب بعد میں دوں گا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ یہ مقدمہ میں بنیادی سوالات ہیں جن کے جواب ضروری ہیں۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے 2015 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے 2015 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی ملک میں نظام انصاف کی بنیاد ہے، فوجی عدالتوں کیخلاف اپیل بھی فوج کا افسرہی سنتا ہے، جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں فوجی عدالتوں کو آئینی تحفظ حاصل تھا، کسی فوجی کا اپنے گھر کے باہر شہری سے جھگڑا ہو تو وہ سول نوعیت کا جرم ہے۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 2015 کی ترمیم سے پہلے بھی آرمی ایکٹ کا سویلینزپراطلاق ہوتا تھا،  برگیڈیئر ایف بی علی پر حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام تھا، عدالت نے قرار دیا کہ ایف بی علی پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ایف بی علی فوج کے ریٹائرڈ افسر تھے عام شہری نہیں، جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ایف بی علی کیس میں عدالت نے کہا تھا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق فرد جرم عائد کرنے سے ہوگا، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس طرح تو ایف آئی آر میں نامزد شخص ملزم ہوگا نہ ہی شامل تفتیش۔

دلائل جاری رکھتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوجی عدالت میں ٹرائل کا پہلا مرحلہ وقوعہ کی رپورٹ ہوتی ہے جو جی ایچ کیو جاری کرتا ہے، دوسرے مرحلے میں ابتدائی تفتیش ہوتی ہے جسے کورٹ آف انکوائری کہتے ہیں، تیسرا مرحلہ ملزم کی گرفتاری اور شواہد کی سمری ریکارڈ ہونا اور فرد جرم عائد کرناہے،  ملزمان گواہان بھی طلب کرسکتے ہیں اور جرح بھی، شواہد پیش کرنے کے بعد ملزم کو کہا جاتا ہے وہ کوئی بیان دینا چاہتا ہے یا نہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے رول 3 میں ملزم کے وارنٹ افسر سے نیچے والے رینک کے ہونے کا ذکر ہے، رول 3 سے واضح ہوتا ہے کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق سویلین پر نہیں ہوتا، جسٹس یحیحی آفریدی بولے کہ شواہد کی سمری کا جائزہ لیکر کمانڈنگ افسر تعین کرے گا کیس بنتا ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ چوتھے مرحلے میں ملزم پر فرد جرم عائد ہوتی ہے، فرد جرم عائد ہونے کے بعد پانچواں مرحلہ کورٹ مارشل کا ہوتا ہے، عدالت قائم ہوتے ہی ملزم کو الزامات اور حق دفاع کی تفصیلات بتائی جاتی ہیں، ملزم کو 24 گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے وہ دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے یا نہیں، ملزم اگر وکیل کرنا چاہے تو مرضی کے ایڈووکیٹ کی خدمات بھی حاصل کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ملزم کو اپنے دفاع کیلئے چند گھنٹے کا وقت دینا بہت کم ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ملزم مزید وقت کا تقاضا کرے تو دیا جاتا ہے، کسی ملزم کیخلاف ایسا الزام نہیں کہ سزائے موت ہوسکے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے پوچھا کہ عمر قید کے کتنے ملزمان ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرمی ایکٹ کے تحت عمر قید نہیں 14 سال سزا ہوتی ہے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ چودہ سال سزا پھانسی کے متبادل کے طور پر دی جاتی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ابھی تک کی تفتیش کے مطابق سزائے موت کا کوئی کیس نہیں بنتا، بادی النظر میں ابھی تک سزائے موت یا چودہ سال سزا کا کوئی کیس نہیں ہے۔

جسٹس یحیحی آفریدی نے پوچھا کہ اگر سیکشن 3A کے تحت پھانسی یا چودہ سال سزا کا جرم نہیں تو حکومت کا کیس کیا ہے؟ اتارنی جنرل نے جواب دیا کہ فوجی تنصیبات کو ممنوعہ علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسارکیا کہ تفتیش مکمل ہی نہیں ہوئی تو کیسے گارنٹی دے سکتے ہیں کہ کونسی سزا ہوگی کونسی نہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ فوجی عدالت میں جج سمیت تمام عملہ قانون کے مطابق انصاف کا حلف لیتا ہے، ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ جرم ثابت ہوا یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کراتے ہوئے بتایا کہ تمام ملزمان کو دی گئی سزاؤں کی وجوہات بھی فیصلے میں درج کی جائیں گی۔ کل عدالت نے فیصلوں کی وجوہات تحریر نہ کرنے کا نقطہ اٹھایا تھا، تمام ملزمان کو مرضی کا وکیل کرنے کا حق بھی دیا جائے گا۔

جسٹس مظاہرنقوی نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں تو کسی افسر یا جج ایڈووکیٹ سے مشاورت کا کہا جاتا ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت میری یقین دہانی نوٹ کرلے کہ مرضی کا وکیل مقرر کرنے حق ہر ملزم کو دیا جائے گا، عدالت نے ایک سوال فیصلوں کیخلاف اپیل کا بھی پوچھا تھا، فوجی عدالت کے فیصلوں کیخلاف اپیل میں ملزمان نئے شواہد بھی پیش کرسکتے ہیں، سول عدالتوں میں اپیل میں نئے شواہد سامنے نہیں لائے جا سکتے۔

اٹارنی جرل نے بتایا کہ اپیل کیخلاف ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے، ملزمان کو بامعنی اپیل کا حق دینے پر غور کیلئے مزید وقت درکار ہے، کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس جاری کیا گیا تھا، اپیل کا حق دینے کے معاملے پر بہت احتیاط سے غور کرنا ہوگا، بامعنی اپیل کی فراہمی پر غور کیلئے حکومت کو وقت درکار ہے، ایسی قانون سازی نہیں چاہتے جس کا فائدہ ملک دشمنوں یا جاسوسی کرنے والوں کو ہو۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں حکومت نو مئی کے ملزمان کو اپیل کا حق دینے پر غور کرنا چاہتی ہے، اپیل کا حق قانون سازی کے ذریعے ہی دیا جا سکتا ہے، آپ کے مطابق کسی کا ٹرائل شروع نہیں ہوا ابھی تفتیش چل رہی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ٹرائل شروع ہونے پر آگاہ کرنے کے عدالتی حکم پرعمل کرینگے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ آپکی دوسری یقین دہانی کھلی عدالت میں ٹرائل اور مرضی کا وکیل فراہم کرنے کی ہے جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کھلی عدالت کا مطلب ہے ملزمان کے اہلخانہ عدالت میں موجود ہونگے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ایک یقین دہانی آپ نے یہ بھی کرائی ہے کہ فیصلوں میں وجوہات تحریر ہونگی۔ ملزمان پر ذہنی و جسمانی تشدد نہیں ہونا چاہیے، کیا وکلاء کا وفد ملزمان سے ملاقات کر سکتا ہے؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وکلا کا وفد تو نہیں لیکن ملزمان کے اہلخانہ ملاقات کر سکتے ہیں، اس حوالے سے عدالت کو ہدایات لیکر آگاہ کروں گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدالت کسی ریٹائر جج کو اپنا نمائندہ بھی مقررکرسکتی ہے جو ملزمان کی حالت کا جائزہ لے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ حکومت قانون سازی کرتی رہے لیکن معاملہ آئینی نکات کا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ چاہتے ہیں زیرحراست افراد کو تمام قانونی حقوق ملنے چاہیں۔ مارشل لاء والا معاملہ آیا تو عدالت مداخلت کرے گی۔

حکومت نے قانون سازی کیلئے عدالت سے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا

حکومتی وکیل نے قانون سازی کیلئے عدالت سے ایک ماہ کا وقت مانگ لیا، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک ماہ سے کم وقت تو موجودہ اسمبلی کا رہ گیا ہے، اسمبلی ہی نہیں ہوگی تو قانون سازی کیسے ہوگی؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی ہوسکتی ہے، وکیل خواجہ احمد حسین نے کہا کہ اگر حکومت کو وقت دینا ہے تو عدالت ٹرائل شروع نہ کرنے کا حکم دے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی گئی تو متعلقہ افراد کو طلب کرینگے۔ آپس میں مشاورت کرکے آئندہ تاریخ سے آگاہ کرینگے۔

عدالت نے حکومت کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل شروع کرنے سے روک دیا اورحکم دیا کہ عدالت کو آگاہ کیے بغیر ٹرائل شروع نہ کیے جائیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ویڈیو اعترافی بیانات کو بھی اٹارنی جنرل نے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے، اعترافی بیانات کے وقت نہ ملزمان کو وکیل کی سہولت تھی نہ کوئی اور۔

چیف جسٹس پاکستان عمرعطا بندیال نے کہا کہ فی الحال سکون کریں، جس کے بعد عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں