Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پرسماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پرسماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی گئی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نےعدالت کو دوبارہ یقین دہانی کرائی کہ عدالت کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی ٹرائل شروع نہیں ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ لوگ آئین کی تشریح کیلئے تعاون کریں تو اچھی پراگریس ہوتی ہے، ٹرائل شروع نہ ہونے کی یقین دہانی کس کی جانب سے ہے؟

اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوج کی اعلی قیادت کی جانب سے یقین دہانی کروا رہا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں چھ رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی۔

آغازمیں اعتزاز احسن روسٹم پر آئے اور عدالت سے کہا کہ اہم اور ہنگامی نوعیت کا معاملہ اٹھانا چاہتا ہوں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترمیم کرکے حساس اداروں کو بے حد اختیارات دیے گئے ہیں، انٹیلی جنس ادارے کسی بھی جگہ طاقت کے استعمال سے سرچ کرسکتے ہیں۔

بیرسٹراعتزاز احسن نے سپریم کورٹ سے آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترمیم پر سوموٹو لینے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے چھ معزز ججز اس وقت بنچ میں موجود ہیں، قانون میں ابہام ہے، نجی انٹیلی جنس ادارے بھی اس طرح گھروں میں گھس سکتے ہیں، آفیشل سیکریٹ ایکٹ میں ترمیم دراصل منی مارشل لاء ہے، ججز چیمبر میں سوموٹو لینے پر مشاورت کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بل کی تفصیلات کا علم نہیں صرف اخبارات میں ہی پڑھا ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے متوازی نظام انصاف قائم ہونے کا سوال اٹھایا گیا تھا، آج عدالتی سوالات کے جواب دوں گا، عدالت نے ایک سوال آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے اطلاق کا بھی پوچھا تھا، سپریم کورٹ اپنے ایک فیصلے میں فوجی عدالت کو بھی ٹرائل کورٹس کے مساوی قرار دے چکی۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ جس فیصلے کا آپ حوالہ دے رہے ہیں وہ حاضر سروس فوجی افسر کا کیس تھا، جسٹس یحیحی آفریدی بولے پہلے عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کی تقسیم پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورٹ مارشل کا آرٹیکل 175(1) کے تحت قائم عدالتوں سے تعلق نہیں، کورٹ مارشل پر آئین کے آرٹیکل 175(3) کا اطلاق نہیں ہوتا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ کورٹ مارشل کو آئینی تحفظ کس آرٹیکل کے تحت حاصل ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اس سوال کا جواب ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دینے کے بعد دوں گا۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ بنیادی حقوق ختم یا کم کرنے کا اختیار ریاست کو بھی نہیں ہوتا، بنیاد حقوق کے خاتمے یا ان میں کمی کو پارلیمنٹ کی مرضی و منشا پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ آپ کی تھیوری یہ ہے کہ ریاست بنیادی حقوق میں کمی یا خاتمے کا اختیار رکھتی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک  نے کہا کورٹ مارشل اگر آئین کے تحت قائم عدالت نہیں ہے تو پھر اسے کیا سمجھا جائے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کورٹ مارشل ٹربیونل ہے جو فوج کو پیشہ وارانہ امور کی انجام دیہی اور ڈسپلن یقینی بناتا ہے۔

جسٹس عائشہ ملک کورٹ مارشل اگر ٹربیونل ہے تو یہ شفاف ٹرائل کے بنیادی حق سے کیسے محروم کرسکتا ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قانون میں سول جرائم کا ذکر ہے سویلین ملزمان کا نہیں۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ پہلے آپ نے کہا تھا کورٹ مارشل کا مقصد فوج کے ڈسپلن کا قیام ہے، آپ چاہتے ہیں ہم کورٹ مارشل کو وہ عدالت تسلیم کریں جس کا مقصد صرف آرمی ڈسپلن کا قیام نہیں ہے، ماضی کے عدالتی فیصلے واضح ہیں کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق صرف فوجیوں پر ہوگا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں۔    اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں