لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کارکن کی نظربندی کیخلاف آئینی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کارکن کی نظربندی کیخلاف آئینی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عدالت نے درخواست گزار کو بیان حلفی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس سلطان تنویراحمد نے شہریاراحمد کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آج کے حالات ڈھاکے جیسے نہیں ہیں یہ ذہن میں رکھیں۔
جسٹس سلطان تنویراحمد نے کہا کہ کبھی سری لنکا یا کسی اور ملک کی مثال دی جاتی ہے، آپ کیس میں وہ مثالیں دیں گے تو عدالت ان کی توثیق نہیں کرسکتی۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل غلام سرورنہنگ نے کہا کہ میرا مقصد عدالت کو حالات بتانا ہے جس کے تحت نظر بندی کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔
جسٹس سلطان تنویراحمد نے کہا کہ میں نے آپ کی فراہم کردہ ویڈیوز دیکھی ہیں، ان ویڈیوز میں ایسی کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔ اگر ایک وکیل کہتا ہے کہ وہ کسی کا فری کیس کرے گا تو آپ کیسے اسے روک سکتے ہیں۔
اشتیاق اے خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے بڑی تعداد میں قانون سازی کی ہے، حکومت نے ایم پی او قانون میں ترمیم کیوں نہیں کی؟ حکومت اتھارٹی کے ذریعے من مانے فیصلے مسلط کرنا چاہتی ہے۔ احیتاط کے نام پر کسی شہری کی زندگی اور آزادی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ سرکاری وکیل نے آج تک قابلِ اعتراض مواد عدالت میں پیش نہیں کیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















