سندھ ہائی کورٹ نے دودھ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے معاملے پرسندھ حکومت سے13 ستمبر کے لیے جواب طلب کرلیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں دودھ اور دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے معاملے میں دودھ کی قیمتوں کے تعین کے لیے کمشنر سمیت ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ دو سال ہوچکے درخواست کی سماعت ہوتے ہوئے، سرکاری محکموں کی سرد جنگ کے باعث اشیا کی قیمتوں کا کوئی کنٹرول نہیں، قیمتیں بڑھانے والی مافیا کو پتہ ہے کہ متعلقہ ادارے غیر فعال ہیں۔ من مانی قیمتوں کی وجہ سے چار کروڑ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سندھ حکومت کے متعلقہ حکام جواب ہی جمع نہیں کرا رہے، متعلقہ حکام کو آخری مہلت دے کر وارننگ دی جائے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ قائد اعظم نے حلف لینے بعد پہلے خطاب میں بلیک مارکیٹنگ کے لیے قانون سازی کا حکم دیا، 1948 سے آج تک بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے قانون سازی نہیں ہوئی، بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور من مانی قیمتیں وصول کی جارہی ہیں۔
طارق منصور ایڈووکیٹ نے دلائل دیے کہ قائد اعظم نے ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے لیے تین سال قید، ایک لاکھ روپے جرمانہ کی تجویز دی، اشیا ضرویہ کی قیمتوں کی جانچ پڑتال، کنٹرول کا اختیار کمشنر کراچی کو دیا گیا، کمشنر کراچی، اسسٹنٹ کمشنر کو چھاپے مارنے کا اختیار دینا غیر قانونی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہوڈنگ اینڈ بلیک مارکیٹنگ ایکٹ میں غیر قانونی زخیرہ اندوزی پر سزاؤں کا تعین کیا گیا تھا، 1953 میں کراچی ایسنشئیل آرٹیکلز پراسیسنگ پروفیٹینگ اینڈ ہوڈنگ ایکٹ کراچی ڈویژن کے لئے نافذ کیا مگر عملدرآمد نہ ہوا، گوڈاون کی ریجسٹریشن کے لئے سندھ گوڈاون ریجسٹریشن ایکٹ 1996 لایا گیا مگر بے سود ثابت ہوا، ایکٹ کو نافذ کرکے عوام کو زخیرہ اندوزوں سے نجات دلائی جائے۔
وکیل درخواست گزارنے کہا کہ 12 سال پہلے دودھ کی قیمتوں کے تعین اور چھاپوں کا اختیار کمشنر کراچی کو دے دیا گیا، دودھ اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا جس محکمے کی ذمہ داری ہے اس نوٹیفکیشن کے زریعے غیر فعال کردیا گیا ہے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















