لاہورہائی کورٹ نے مستقل کیے گئے ڈیلی ویجزملازمین کا سروس اسٹریکچر بنانے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق لاہورہائی کورٹ نے سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کو سروس اسٹرکچر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر سیکرٹری سروسز پنجاب کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
سماعت کے دوران ملازمین کا سروس اسٹرکچر نہ بنانے پرعدالت نے سخت اظہار برہمی کیا، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ ڈیلی ویجزملازمین کےبھی حقوق ہیں ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیسے روا رکھا جاسکتا ہے۔ افسران حق دینے والےبنیں چھیننے والے مت بنیں۔
عدالت نے ڈیلی ویجزسے مستقل ہونے والے ملازم اسلم کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالتی حکم پر سیکرٹری کمیونیکیشن اینڈ ورکس اور ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ عدالت پیش ہوئے۔
سیکریٹری سروسز پنجاب نے بتایا کہ مستقل کئے گئے ڈیلی ویجز ملازمین کی مراعات کےلئے پالیسی بنادی۔ سروس اسٹرکچربنانا سیکرٹری سروسز کا اختیار ہےہم عمل درآمد کےپابندہیں۔
درخواست گزاراسلم کے وکیل نے دلائل دیے، کہا کہ ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کےباوجود مزدورکی اجرت سے کم تنخواہیں دی جارہی ہیں۔ دیگر سرکاری ملازمین کےبرعکس تنخواہوں میں کٹوتیوں کابھی سامنا ہے۔ گریجوایٹی، انشورنس اور دیگر مراعات بھی نہیں دی جارہی۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















