عدالت نے پولیس کی جانب سے پرویزالٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزکے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں جج اے ٹی سی ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے سماعت کی۔ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین گزشتہ کئی روزسے رخصت پر تھے۔ گزشتہ سماعت ڈیوٹی جج شاہ رخ ارجمند نے کی تھی۔
دورانِ سماعت پراسیکیوشن کی جانب سے سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا مزید 10 دن کا جسمانی ریمانڈ مانگ لیا۔
پرویز الہٰی کے وکیل سردارعبدلرازق نے دلائل کا آغازکرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ میں 200/250 نامعلوم ہیں اور پرویز الہٰی کا دو دن پہلے نام سامنے آیا، پرویز الہٰی اس وقت پی ٹی آئی میں نہیں تھے جب مقدمہ درج ہوا تھا، یہ مقدمہ پی ٹی آئی اور انکی قیادت پر کیا گیا تھا۔
9 مئی واقعہ ، پرویز الہی کا 14 روز کیلئے جوڈیشل ریمانڈ منظور#BOLNews #PervaizElahi pic.twitter.com/c6ynXNBCty
— BOL Network (@BOLNETWORK) September 8, 2023
وکیل سردارعبدلرازق نے دلائل دیے کہ پرویزالہٰی اس وقت سیاسی انتقام کا نشانہ بن رہے ہیں، 1 جون کو پہلی گرفتاری پرویز الہٰی کی عمل لائی گئی، شواہد کے بغیر پرویز الہٰی پر مقدمات درج کیے گئے، لاہور ہائیکورٹ نے آرڈر دیا کہ انکو کسی نامعلوم مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، لاہورہائیکورٹ نے حکم دیا تھا کہ پرویز الٰہی کو کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کیا جائے، لاہورہائیکورٹ نے جو آرڈر دیا وہ ہر اینگل کو کور کرتا ہے۔
وکیل پرویزالٰہی نے دلائل میں کہا کہ ایم پی او میں گرفتاری سے لاہور ہائیکورٹ نے روک دیا، لاہورہائیکورٹ سے نکلے تو راستے سے اسلام آباد پولیس اور سادہ ملبوس اہلکارنے گرفتار کیا، کوئی وارنٹ یا ایم پی او کا آرڈر نہیں تھا، اسلام آباد کے ڈی سی نے ایم پی او کا آرڈر نکالا، تمام ایم پی او آرڈر میں کومے کی بھی تبدیلی نہیں ہے صرف نام کی ہے، لاہور ہائیکورٹ نے واضح حکم دیا کس اور کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
وکیل سردارعبدالرزق نے کہا کہ لاہورپولیس کو حکم ہوا سیکورٹی دی جائے گھر پہنچا جائے، اسلام آباد میں ہم نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا اسلام آباد ہائیکورٹ نے گرفتاری کا حکم معطل کیا، پھر پولیس لائن سے نکلتے ہوئے اس کیس میں گرفتارکرلیا گیا، سی ٹی ڈی، اسلام آباد پولیس اور سادہ ملبوس اہلکارنے پولیس لائنز کے سامنے سے گرفتار کیا، پرویز الہٰی کا مقدمہ میں نام نہیں ہے نامعلوم میں گرفتار کر لیا، پراسیکیوشن نے مفروضہ کی بنیاد پر گرفتار کیا اور مالی معاونت کا الزام عائد کیا، اس کیس میں پرویز الہٰی کے خلاف کوئی شواہد نہیں ہیں۔
وکیل سردار عبدلرازق نے مذید دلائل دیے کہ پرویزالہٰی سابق ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ رہے ہیں وفاقی پولیس انکو نہیں جانتی کیا؟ آرٹیکل 9 انسانی حقوق کا تحفظ دیتا ہے، ایسا تو نہیں کو جس کو چاہئیں گرفتار کرلیں یا اٹھا لیں کوئی شواہد دینے ہوتے ہیں، ہر طرح کا مقدمہ بنا کیا لیکن کچھ نہیں نکلا۔
وکیل سردارعبدلرازق نے پرویز الٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کر دی ان کے بعد وکیل بابراعوان نے مختلف قانونی حوالے دینا شروع کردیے۔ وکیل بابر اعوان کی جانب سے ایف آئی آر پڑھنا شروع کر دی گئی، کہا کہ مارچ کا مقدمہ ہے ابھی تک پرویز الٰہی کے خلاف کیا ثبوت ہے کہ یہ دہشتگرد ہیں۔
وکیل بابر اعوان نے دلائل دیے کہ پراسیکیوشن نے اب تک کیا ثبوت دیا ہے کہ پرویز الٰہی دہشتگرد ہیں، رائے دانے جتنا بھی ثبوت پراسیکیوشن کے پاس پرویز الہٰی کے خلاف نہیں ہے، جو مقدمے میں نامزد تھے وہ ڈسچارج نہیں ہوئے جو نامعلوم تھے وہ تمام ڈسچارج ہیں۔
وکیل بابر عوان نے بھی پرویزالٰہی کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ثبوت دکھائیں؟ کس بنیادپر جسمانی ریمانڈ چاہیے؟ جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں ڈسچارج ملزمان کے فیصلے کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج نہیں کیاگیا۔
وکیل بابراعوان کی جانب سے مختلف قانونی حوالے دیے گئے۔
جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی جانب سے پرویزالٰہی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 14 روزکے لیے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔
ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔




















