سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے آخری کیس میں وکلاء سے مکالمہ کیا ہے کہ گڈ ٹوسی یوآل مائی فرینڈز۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریٹائرمنٹ سے قبل بینچ میں آخری دن وکلاء اور صحافیوں کا شکریہ ادا کیا۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بطور جج آخری کیسز کی سماعت کی، چیف جسٹس کے بنچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عائشہ ملک شامل تھے۔
مقدمات میں پیش ہونے والے وکلاء نے چیف جسٹس کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا شکریہ، میں بھی آپ کیلئے دعا گو ہوں۔
وکیل میاں بلال نے چیف جسٹس سے کہا کہ جب ہائیکورٹ میں بطور آپ کا پہلا کیس تھا تو بھی میں ہی آپ کے سامنے پیش ہوا، آج سپریم کورٹ میں آپ کا آخری کیس ہے تب بھی پیش ہو رہا ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ کا کیس تو غیر موثر ہو گیا ہے، لیکن اگر دلائل دیں گے تو دل کو خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔
وکیل میاں بلال نے کہا کہ آپ نے ہمیشہ تحمل سے ہمیں سنا، جس پر عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمارا فریضہ ہے کہ سب کو تحمل سے سنیں، بار کی طرف سے ہمیشہ تعاون اور سیکھنے کو ملا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اللہ کی خوشنودی کوذہن میں رکھ کر کام کیا، کالے کوٹ کا ہمیشہ بار سے تعلق رہتا ہے، وکلاء سے اب انشاء اللہ بار روم میں ملاقات ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میڈیا کے دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مجھے متحرک رکھا، میڈیا کی تنقید کو بھی ویلکم کرتا ہوں۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ عدالتی فیصلوں پر تنقید ضرور کریں، جب جج پر تنقید کریں تو یقینی بنائیں وہ سچے حقائق پر مبنی ہو۔
وکلاء کے کلمات پر چیف جسٹس نے غالب کا مصرعہ بھی پڑھا، انہوں نے کہا کہ دل کے خوش رکھنے کوغالب یہ خیال اچھا ہے، میں اللہ تعالیٰ کا مشکور ہوں جس نے مجھے موقع دیا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















