Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

فون اور دیگر اسکرینوں سے نکلنے والی نیلی روشنی ابتدائی بلوغت کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

انقرہ، ترکی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق فون، ٹیبلٹ اور ٹیلی ویژن کی اسکرینوں سے خارج ہونے والی نیلی روشنی بچوں کی صحت پر خطرناک اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

آج کل، بچوں کی پرورش ان کے چاروں طرف موجود مختلف آلات کے ساتھ کی جاتی ہے، والدین بچوں کو چھوٹی عمر میں ہی بہلانے کے لیے فون یا ٹیبلیٹ تھما دیتےہیں تاکہ بچے میں اس میں مگن ہوکر والدین کو پریشان نہ کریں۔

تاہم، ترکی کے محققین نے حالیہ مطالعے میں یہ دریافت کیا کہ ان الیکٹرانک ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی کی نمائش ابتدائی بلوغت کو متاثر کر سکتی ہے۔

انقرہ میں غازی یونیورسٹی اور بلکینٹ سٹی ہسپتال کی ٹیموں نے اسکرین سے خارج ہونے والی نیلی روشنی اور بچوں کے بلوغت کے درمیان تعلق کو جاننے کے لیے نر چوہوں پر ایک تحقیق کی۔اور یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے نر چوہوں میں اس کا اثر دیکھا ہے یعنی ڈیوائس کی اسکرین اور قبل از وقت جوانی کے درمیان تعلق کو نوٹ کیاہے۔

اس تحقیق کے نتائج ماضی میں کی جانے والی اسی طرح کی ایک تحقیق  کے نتائج کی تقلید کرتے ہیں جس میں مادہ چوہوں پر نیلی روشنی کے اثرات اور ابتدائی بلوغت کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا تھا۔

بیکنٹ سٹی ہسپتال کے ڈاکٹر ایلن کِلِنِ اوگرلو جو کہ اس تحقیق کے مرکزی محقق ہیں کا کہنا ہے کہ پہلی بار، ہم نے نر چوہوں میں نیلی روشنی کی نمائش اور ابتدائی بلوغت کے درمیان براہِ راست تعلق کو نوٹ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری تلاش مادہ چوہوں پر ہمارے پچھلے کام سے مطابقت رکھتی ہیں، جس نے بھی اسی طرح کے اثرات دکھائے، اس طرح یہ ایک زیادہ جامع نظریہ فراہم کرتا ہے کہ نیلی روشنی نر اور مادہ دونوں چوہوں میں بلوغت کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔

اس تحقیق میں 18 نر چوہوں کو جن کی عمر 21 دن تھی تین گرہوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ان گروپوں میں سے دو کو روزانہ چھ یا 12 گھنٹے نیلی روشنی کی نمائش تفویض کی گئی تھی۔ جبکہ آخری گروپ ایک کنٹرول گروپ تھا اور اسے کسی بھی اسکرین کی نیلی روشنی کا سامنا نہیں تھا۔

تاہم نتائج حیران کن تھے نیلی روشنی کا سامنا کرنے والے چوہوں میں کنٹرول گروپ کے مقابلے میں بلوغت کی علامات نمایاں طور پر پہلے نمودرا ہوئی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ روشنی ابتدائی بلوغت کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم محققین کا یہ کہنا ہے کہ یہ چوہے پر کیا جانے والا مطالعہ ہے اور انسانوں پر براہ راست اسی طرح کے اثرات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی یہی وجہ ہے کہ اس پر ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

پھر بھی یہ تحقیق جدید معاشرے میں مسلسل بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم کے صحت  پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں مزید تحقیقات کے لیے ایک تجرباتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

محققین کو امید ہے کہ وہ چوہوں پر نیلی روشنی کے اثرات پر اپنا مطالعہ جاری رکھیں گے تاکہ “اعضاء تولیدی کے نقصان اور زرخیزی پر اس کے طویل مدتی اثرات کو سمجھا جاسکے۔

تاہم یہ تحقیق اسکرین ٹائم کی روک تھام کے لیے ایسے اقدامات  کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتی ہے جو جدید طرز زندگی کے جسمانی نشوونما اور طویل مدتی صحت کو متاثر کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اس تحقیق کے نتائج دی ہیگ میں 61ویں سالانہ یورپی سوسائٹی برائے پیڈیاٹرک اینڈو کرینولوجی میٹنگ میں پیش کیے گئے اور فرنٹیئرز ان اینڈو کرینولوجی جرنل میں شائع ہوئے ہیں۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں