اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے 6 صفحات پر مشتمل چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف نو مئی واقعات، توشہ خانہ جعل سازی اور اقدام قتل سے متعلق نو کیسز میں ضمانت کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلے میں بتایا گیا کہ ضمانت کی درخواستیں مسترد کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور چیئرمین پی ٹی آئی کا حاضری سے استثنیٰ بھی بحال کیا جاتا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی جان بوجھ کر عدالت سے غیر حاضر نہیں ہوئے، ضمانت منسوخی کے باوجود ریاست نے چیئرمین پی ٹی آئی کو ان مقدمات میں گرفتار نہیں کیا۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ یہ نکتہ دیکھتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کرے۔
2 اکتوبر 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی 9 مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں ٹرائل کورٹس میں بحال کردی تھیں۔
عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں بحال کرنے کی اپیلیں منظور کرلی تھیں اور ٹرائل کورٹس کا ضمانت کی درخواستیں خارج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
یاد رہے کہ سیشن کورٹ نے چھ اور انسداد دہشت گردی عدالت نے تین کیسز میں چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم پیروی پر ضمانت خارج کی تھی جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی نے نو کیسز میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















