آج کل ہر دوسرا شخص کمر میں درد کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، اس کی وجہ غیر معیاری طرز زندگی ہے جس میں آپ دن بھر اسکرین کے سامنے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہتے ہیں جو کمر میں درد کا سبب بنتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی کئی اور وجوہات ہیں جو اس درد کا سبب بنتی ہیں، اگر یہ طویل عرصے تک رہے اور علاج نہ کیا جائے تو یہ درد معذوری کا باعث بن سکتا ہے۔
اس کی علامات میں کمر کی نچلی جانب درد ہونا، ٹیسیں اٹھنا، کمر کا درد پیر تک جانا، چلنے پھرنے، جھکنے، زیادہ دیر تک کھڑے رہنے اور وزن اٹھانے میں درد کا ناقابل برداشت ہوجانا اور لیٹنے پر درد میں کمی ہونا شامل ہیں۔
کمرکا درد گھر میں گھومتے پھرتے یہاں تک کہ اگر آپ کسی سخت جسمانی مشقت میں مشغول نہیں ہیں تب بھی یہ ایک سادہ معمول کی گھریلو سرگرمی کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روزمرہ کے کچھ گھریلو کام ایسے ہیں جن سے پرہیز کرنے سے آپ اس درد سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ایسے کام جس میں بار بار کمر کو موڑا جائے ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ ڈالتے ہیں یہ سرگرمی اگر بیٹھ کر کی جائے اور بھی نقصان کا باعث بنتی ہے۔
برتن دھونا

کھڑے ہوکر کھانابنانا کمر کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے اسی طرح کھڑے ہوکر برتن دھونا بھی کمر کے مفید نہیں،اس کہ وجہ یہ ہے کہ انسان ہونے کے ناطے حرکت ضروری ہے ایک جگہ اور ایک ہی پوزیشن میں کھڑے رہنا نقصان دہ ہو سکتا ہے اس طرح وزن کا دباؤ کمر پر پڑتا ہے اور بنیادی عضلات تھک جاتے ہیں یہ کمر میں تناؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کھانا بناتے وقت، سنک کے اوپر جھکنے کی کوشش نہ کریں؛ بلکہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے سیدھا کھڑے رہیں تاکہ ریڑھ کی ہڈی پر کم دباؤ محسوس ہو۔
ویکیومنگ، سویپنگ اور موپنگ

ویکیومنگ کی طرح کے دوسرے کام جیسے جھاڑو اور موپنگ اور یہاں تک کہ لانڈری کرنا جس میں جھک کر کمر کو موڑا جائے کمر میں درد کا سبب بن سکتا ہے۔
گھومنے اور موڑنے کی حرکت جو ویکیومنگ اور دیگر مذکورہ بالا گھریلو سرگرمیوں کے ساتھ ہوتی ہے “نچلی لمبر ڈسکس پر تناؤ کو بڑھاتی ہے اور ڈسک کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ اس لیے ان کاموں کو کرتے وقت جھکنے اور بیٹھ کر مڑنے سے گریز کریں۔
اسی طرح کسی بھاری شے کو اٹھاتے وقت سیدھا کھڑا ہوکر اسے اٹھانے کی کوشش کریں جھک کر نہ اٹھائیں تاکہ کمر میں درد کو ہونے سے بچایا جاسکے۔
اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے فیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں
ٹوئٹر پر ہمیں فولو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں
پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن پر کلک کریں




















