Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

نیب ترامیم کیس کیخلاف فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک نے عبد الجبار کیطرف سے نیب ترامیم فیصلے کیخلاف نظر ثانی اپیل دائر کی جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں سنے بغیر نیب ترامیم کیخلاف فیصلہ دیا، نیب ترامیم کے بعد احتساب عدالت نے میرے خلاف ریفرنس انٹی کرپشن عدالت کو بھجوادیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ نیب ترامیم کیخلاف درخواست میں کسی بنیادی حقوق خلاف ورزی کی نشاندہی نہیں کی گئی، نیب ترامیم کیخلاف درخواست آرٹیکل کے تقاضے پوری نہیں کرتی تھی۔

ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے دائر درخواست میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ نیب ترامیم کیخلاف 15 ستمبر کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 15 ستمبر کو نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سنایا تھا اور چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرتے ہوئے نیب ترامیم کالعدم قرار دے دی تھیں۔

عدالت نے بے نامی کی تعریف، آمدن سے زائد اثاثوں اور بار ثبوت استغاثہ پر منتقل کرنے کی نیب ترمیم کالعدم قرار دے دی جس کے بعد سیاست دانوں کے 50 کروڑ سے کم مالیت کے کرپشن کیسز ایک بار پھر نیب کو منتقل ہوگئے۔

عدالتی فیصلے کی روشنی میں نیب نے نواز شریف، زرداری اور دیگر سیاست دانوں کے 80 کرپشن کیسز بحال کردیے تھے۔

پس منظر

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف سماعت کے لیے 15 جولائی 2022ء کو خصوصی بنچ تشکیل دیا تھا۔

نیب ترامیم کے خلاف سابق چیف جسٹس پاکستان عمرعطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا۔ خصوصی بنچ میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور شامل تھے۔

نیب ترامیم کے خلاف کیس کی پہلی سماعت 19 جولائی 2022ء کو ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ترامیم کے خلاف 184/3 کی درخواست دائر کی جس میں انہوں نے وفاق اور نیب کو فریق بنایا۔

وکیل خواجہ حارث کی درخواست میں مؤقف تھا کہ نیب قانون کے سیکشن 2، 4، 5، 6، 25، 26 میں کی گئی ترامیم آئین کےمنافی ہیں، سیکشن 14، 15، 21 اور 23 میں کی گئی ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نیب قانون میں یہ ترامیم آرٹیکل 9، 14، 19 ،24، 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں۔ استدعا کی گئی کہ نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قراردیا جائے۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 5 ستمبر کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ نیب ترامیم کیس 15 ماہ تک زیر سماعت رہا اور 54 سماعتیں ہوئیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے نیب ترامیم کے خلاف دلائل دیے جبکہ وفاق کے وکیل مخدوم علی خان نے نیب ترامیم کے حق میں دلائل دیے۔

آخری سماعت پر چیف جسٹس نے معاونت کرنے پر تمام فریقین کا شکریہ ادا کیا اور ریمارکس دیے کہ ’شارٹ اینڈ سویٹ‘ فیصلہ دیں گے تاہم انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل فیصلہ سنانے کا کہا تھا۔

آخری سماعت پر اٹارنی جنرل بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت دی تھی۔

15 ستمبر کو نیب ترامیم کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نیب ترامیم کی کئی شقیں کالعدم قراردیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تمام ختم انکوائریز اور کیسز بحال کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ فیصلے میں جسٹس منصورعلی شاہ کا اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں