Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

سپریم کورٹ ملازمین کی معلومات 7 روز میں فراہم کرنے کا حکم

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 7 روز میں درخواست گزار کو ملازمین سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے محفوظ شدہ فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ ملازمین کی معلومات فراہم کرنے کی اپیل منظور کرلی۔

سپریم کورٹ نے دس صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جو کہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا ہے۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں رجسڑار سپریم کورٹ سے 8 مختلف معلومات حاصل کرنے کیلئے درخواست دی گئی، 100 سے زائد ممالک میں معلومات تک رسائی کے حوالے سے قوانین ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی عدالت نے معلومات تک رسائی کو جمہوریت، احتساب اور کرپشن سے تحفظ کے مطابق قرار دیا ہے، حضرت عمر سے کپڑوں کے بارے میں پوچھنے پر اعتراض نہیں کیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ کے حوالے سے معلومات تک رسائی کا نہ قانون ہے نہ رولز، معلومات تک رسائی کو آئین کے آرٹیکل 19 اے کے تناظر سے دیکھا جائے گا، 19 اے معلومات تک رسائی کو مناسب پابندیوں کا تصور دیتا ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ معلومات تک رسائی سے انکار پر ادارہ، شخص یا اتھارٹی کی جانب سے مناسب وجہ پر ہونا چاہیے، موجودہ کیس میں سپریم کورٹ سے معلومات حاصل کرنے کی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ تحریر کیا جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ پر معلومات تک رسائی کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواست گزار کو متعلقہ معلومات فراہم کرنا چاہیے تھیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق رجسٹرار نے مختیار احمد کو معلومات فراہم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں دیا۔ آرٹیکل 19 اے تحت کے معلومات فراہم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ رجسٹرار آفس درخواست گزار کو معلومات کیساتھ ادا کورٹ فیس واپس کرے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹرا کورٹ فیس بھی واپس کی جائے۔

یاد رہے کہ 14 اکتوبر 2023 کو سپریم کورٹ کے ملازمین کی تفصیلات فراہم کرنے کے کیس سے متعلق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 16 اکتوبر کو محفوظ شدہ فیصلہ سنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 27 ستمبر 2023 کو افسران کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا جبکہ  اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس سے متعلق درخواست گزار اور اٹارنی جنرل سے دو ہفتوں میں تحریری دلائل مانگے تھے۔

 واضح رہے کہ درخواست گزار مختار احمد نے سپریم کورٹ کے ملازمین کی تفصیلات کیلئے رجسٹرار سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جبکہ سابق رجسٹرار سپریم کورٹ نے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا تھا جس کے بعد درخواست گزار نے انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا تھا۔

انفارمیشن کمیشن نے اس وقت کے رجسٹرار سپریم کورٹ کو معلومات فراہم کرنے کا کہا تھا، انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف رجسٹرار سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ سے فیصلہ خلاف آنے پر درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں