Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کی العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے نواز شریف کی اپیلیں بحال کرنے کی درخواستوں پر سماعت کا تحریری حکم جاری کیا۔

حکم نامے میں بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف کو گرفتار نہ کرنے کے حکم میں 26 اکتوبر تک توسیع کردی اور اپیلیں بحال کرنے کی درخواستیں قابلِ سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کرلئے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق 19 اکتوبر کے حکم کے مطابق نواز شریف عدالت حاضر ہوئے، سرنڈر کیا۔ اپیلیں بحالی کی نواز شریف کی دو درخواستوں پر نیب کو نوٹس جاری کیے، نیب کے ہدایات لینے کے لئے وقت مانگنے پر حفاظتی ضمانت میں توسیع کی استدعا کی گئی، پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا نواز شریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پر کوئی اعتراض نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے تحریری حکم نامے میں مزید لکھا کہ نواز شریف کو گرفتار نہ کرنے کے حکم میں 26 اکتوبر تک توسیع کی جاتی ہے، نواز شریف کے وکیل متفرق درخواستیں قابل سماعت ہونے پر عدالت کو مطمئن کریں۔

گزشتہ سماعت کا احوال

گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں العزیزیہ ریفرنس اور ایون فیلڈ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی اپیلیں بحال کرانے کی درخواستوں پرسماعت ہوئی۔

اعظم نذیرتارڑ نے عدالت سے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنسز میں اپیلیں بحال کی جائیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ ہائی کورٹ میں دو اپیلیں بحال کرانے کی درخواستیں دائرکی گئی ہیں، ہم نیب کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیتے ہیں۔

جسٹس حسن اورنگزیب نے کہا کہ کیا ملزم اپنی مرضی ہے وطن واپس آ کراپیلیں بحال کرانے کا کہہ سکتا ہے؟ کیا عدالت اپیلیں دوبارہ بحال کرنے کی پابند ہے؟

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اپیلوں کی بحالی روٹین کا معاملہ نہیں، آپ نے مطمئن کرنا ہے کہ آپ عدالت سے غیر حاضرکیوں رہے؟

نوازشریف کے وکیل نے حفاظتی ضمانت میں توسیع مانگ لی، اعظم نذیرتارڑنے کہا کہ عدالت حفاظتی ضمانت میں توسیع کر دے پھر نیب اور ہم تیاری کے ساتھ پیش ہوں گے۔

سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ کیا نیب کو نوازشریف کی حفاظتی ضمانت میں توسیع پرکوئی اعتراض ہے؟ نیب کی جانب سے پراسیکیوٹرنے جواب دیا کہ نہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

 اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے نوازشریف کی حفاظتی ضمانت میں 26 اکتوبرتک توسیع کردی۔

واضح رہے کہ 19 اکتوبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں نواز شریف کی حفاظتی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

یاد رہے کہ نواز شریف کو 2018 میں العزیزیہ ملز ریفرنس میں سزا سنائی گئی تھی، العزیزیہ ملز ریفرنس میں انہیں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں 7 برس کے لیے قید کردیا گیا تھا تاہم کچھ ہی عرصے بعد انہیں طبی بنیادوں پر لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

نواز شریف جیل میں صحت کی خرابی کے بعد نومبر 2019 میں علاج کی غرض سے لندن روانہ ہوگئے تھے لیکن وہ تاحال پاکستان واپس نہیں آئے جبکہ ان کے خلاف پاکستان میں متعدد مقدمات زیر التوا ہیں۔

نواز شریف کی لندن روانگی سے قبل شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ 4 ہفتوں یا ان کے ڈاکٹر کی جانب سےان کی صحت یابی کی تصدیق کے بعد وہ پاکستان واپس آجائیں گے۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں

متعلقہ خبریں