سندھ ہائیکورٹ میں کراچی کے مختلف علاقوں سے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں جے آئی ٹی، پی ٹی ایف اور پولیس رپورٹس پرعدالت نے عدم اطمینان کردیا۔
دوران سماعت عدالت نے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کوشش تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد کو ہر ممکن تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو معاملے کو ذاتی طور پر دیکھنے کا بھی حکم دیا، کہا کہ لاپتا افراد کے اہلخانہ، جے آئی ٹیز، پی ٹی ایف سمیت تمام ذرائع سے شہریوں کا سراغ لگایا جائے، لاپتا کے معاملے پر کوئی بھی بری الذمہ نہیں ہوسکتا، تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تمام اداروں کی معاونت سے لاپتا افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ وفاقی سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مذکورہ شہری کسی بھی حراستی مراکزمیں قید نہیں ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ شہری فرقان خان، عمران، عابدعلی اور دیگر شہر کے مختلف علاقوں سے لاپتہ ہوگئے، استدعا ہے کہ لاپتا افراد کو بازیاب کرایا جائے۔
اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔




















