Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

آڈیو لیکس کیخلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کی جانب سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر تحریری حکم جاری کیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آڈیو لیکس کے خلاف کیس کی سماعت کے تحریری حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے سوال کیا کہ شہریوں کی الیکٹرانک سرویلنس اور کالز ریکارڈنگ کی صلاحیت کس ادارے کے پاس ہے؟

عدالت کی جانب سے تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل نے کہا وہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس سے متعلق مشاورت کریں گے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وہ مشاورت کے بعد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق وزیراعظم کے سیکرٹری، سیکرٹری دفاع و داخلہ اور چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنا جواب جمع کرایا، حکومت کے جواب کے مطابق کسی ایجنسی کو شہریوں کے فون ٹیپنگ اور ریکارڈنگ کی اجازت نہیں دی، شہریوں کے فون ٹیپنگ یا سرویلینس کے لئے جج سے وارنٹ لیا جا سکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری آئندہ سماعت پر تحریری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، وزیراعظم آفس بتائے فون ٹیپنگ کی اجازت دی گئی؟ کسی کو اختیار دیا گیا یا وارنٹ حاصل کیے گئے؟ وفاقی حکومت کی جانب سے اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو تفصیلات جمع کرائیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری متعلقہ وزارتوں اور حساس اداروں نے سربراہان سے معاونت لے سکتے ہیں، عدالت امید کرتی ہے کہ وفاقی حکومت مطلوبہ معلومات کے ساتھ ایک واضح رپورٹ پیش کرے گی۔

عدالت نے تحریری حکم نامے میں مزید کہا کہ پاکستان کے پاس باصلاحیت اور فعال نیشنل سیکیورٹی انفرا اسٹرکچر موجود ہے، یہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر کسی دشمن ایجنسی نے  ملک کے اعلی ترین پبلک آفس کی کالز ریکارڈ کر لیں اور یہ بھی نہیں مانا جا سکتا ریاست کے علم میں آئے بغیر غیر ریاستی عناصر نے وزیراعظم آفس کی کال ریکارڈ کی۔

گزشتہ سماعت کا احوال

دو روز قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے اور بشریٰ بی بی کی آڈیو لیکس طلبی نوٹس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی تھی۔

دوران سماعت عدالتی معاون میاں رضا ربانی نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرایے اور روسٹرم پر آکر کہا کہ عدالت نے پانچ سوالات پر معاونت طلب کی تھی جس پر تحریری دلائل جمع کرائے ہیں۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل منصوراعوان نے کیس کی سماعت ان کیمرہ کرنے کی استدعا کی جس پرعدالت نے کہا کہ آپ اپنا تحریری جواب جمع کرائیں پھر اس کو دیکھتے ہیں، کیا الیکٹرانک سرویلنس کی جا سکتی ہے؟ کون ایسا کرسکتا ہے؟ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی تو کہہ رہی ہے کہ انہوں نے کسی کو اجازت نہیں دی، پہلا سوال یہ ہے کہ الیکٹرانک سرویلنس کیسے ہو رہی ہے اور کون کر رہا ہے۔

جسٹس بابرستار نے کہا تھا کہ وزیراعظم آفس اور سپریم کورٹ کے جج کی آڈیوزلیک ہوئی ہیں، سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس کی فیملی کی آڈیو لیک ہوئی۔ حکومت نے آڈیو لیکس سے متعلق اہم ججز پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دیا، اُس کمیشن کے ٹی او آرز میں بھی یہ سوال نہیں تھا کہ آڈیوز لیک کون کرتا ہے۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر جواب جمع کرانے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دے دی۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں