Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

کوئی ادارہ دوسرے کی آئینی حدود میں مداخلت کرے تو نتائج سنگین ہونگے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ انتخابات کی تاریخ نہ آنے سے پورا ملک بے چینی کا شکار ہوا، صدراورالیکشن کمیشن سمیت سب کو وہی کرنا چاہیے جو آئین کی منشا ہے۔

سپریم کورٹ میں نوے روز میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں عدالتِ عظمٰی نے سماعت کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے لکھا کہ  صدرنے وزیراعظم کی ایڈوائس پر9 اگست کو اسمبلی تحلیل کی، اسمبلی تحلیل کے بعد انتخابات کی تاریخ کا اعلان ہونا تھا۔

آرٹیکل 48(5) اورالیکشن ایکٹ کی سیکشن 57(2)کا بھی حوالہ

آرٹیکل 48(5) اورالیکشن ایکٹ کی سیکشن 57(2)کا بھی حوالہ دیا گیا، حکم نامے میں کہا گیا کہ صدراورالیکشن کمیشن کے درمیان انتخابات کی تاریخ پر ڈیڈلاک ہوا، علی ظفر کی جانب سے صدر کے الیکشن کمیشن کو 13 ستمبر کے خط کا حوالہ دیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائزعیسٰی نے دورانِ سماعت پوچھا کہ کیا پانچوں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلزکو انتخابات کی تاریخ پراعتراض ہے؟ سماعت کے دوران کسی ایڈووکیٹ جنرل نے انتخابات کی تاریخ پراعتراض نہیں کیا جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں کو بھی عدالتی حکم اورانتخابات کی تاریخ کا پابند کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ آگاہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے صدر کے خط کا کوئی جواب نہیں دیا، صدرکے خط اور الیکشن کمیشن کے مؤقف سے عدالت مشکل میں آ گئی، آئین اور قانون میں عدالت کا الیکشن کی تاریخ مقررکرنے کا اختیار نہیں، صدر نے آرٹیکل 186 کے تحت عدالت سے رجوع نہیں کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ صدراورالیکشن کمیشن سمیت سب کو وہی کرنا چاہیے جو آئین کی منشا ہے، آئین پرعمل کرنا کوئی آپشن نہیں بلکہ ذمہ داری ہے،  کوئی ادارہ دوسرے کی آئینی حدود میں مداخلت کرے تو نتائج سنگین ہونگے، صدراورالیکشن کمیشن کا تنازع غیر ضروری طور پر سپریم کورٹ لایا گیا۔ عدالت نے صدراورالیکشن کمیشن کے امور میں مداخلت نہیں کی۔

سپریم کورٹ نے حکم نامہ لکھا کہ پورا ملک انتخابات کی تاریخ کیلئے تشویش میں مبتلا تھا، کچھ لوگوں کو خدشہ تھا شاید انتخابات ہونگے ہی نہیں، آئین کے تحت سپریم کورٹ ایسا اختیار استعمال نہیں کر سکتی جو اسے حاصل نہ ہو، عدالت نے صدر اور الیکشن کمیشن کو تاریخ کے تعین میں سہولت کاری کی، آئینی عہدہ جتنا بڑا ہوگا ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی، آئین پر عمل کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ صدر، چیف الیکشن کمشنر اور ارکان آئین کے تحت کیے گئے حلف کے پابند ہیں، آئین پاکستان کو پچاس سال ہوچکے ہیں،  کسی آئینی ادارے یا عہدیدار کے ہاس آئین سے آشنا نہ ہونے کا کوئی عذر نہیں، آج سے پندرہ سال پہلے تین نومبر کو آئین پر شب خون مارا گیا تھا، آئین پر شب خون مارنے کے ہمیشہ دوررس اثرات مرتب ہوئے ہیں، آئین پر شب خون مارنے کی تاریخ سے سیکھنا ہوگا کہ اس کے عوام اور ملکی جغرافیائی حدود پر منفی اثرات پڑے، وقت آگیا ہے کہ عدالتیں غیر ضروری طور پر ایسے تنازعات کا حصہ نہ بنیں کہ ان پر وقت ضائع کریں۔

عدالتِ عظمٰی نے حکم نامے میں لکھا کہ ماضی قریب میں انہی صدر مملکت نے اسمبلی اس وقت تحلیل کی جب وزیراعظم عدم اعتماد کا سامنا کر رہے تھے، آئین واضح ہے کہ عدم اعتماد کی صورت میں اسمبلی تحلیل نہیں ہوسکتی، اسمبلی تحلیل سے تنازع سپریم کورٹ آیا اورعدالت کو اس کا فیصلہ کرنا پڑا، چیف جسٹس اور چار ججز نے اس وقت متفقہ طور پر قرار دیا کہ اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس غیرآئینی تھی۔ عدالت نے صدر کی جانب سے تحلیل کردہ اسمبلی بھی غیرآئینی قرار دیکر بحال کی۔ بنچ کے ایک رکن نے تو صدر کو نتائج بھگتنے کی رائے بھی دی۔

عدالت نے سابق جج مظہرعالم خیل کے نوٹ کو بھی فیصلے کو حصہ بنا لیا، دورانِ سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا الیکشن شیڈیول جاری کر دیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن نے جواب دیا کہ الیکشن شیڈیول دسمبرکے پہلے ہفتے میں جاری ہوگا، حلقہ بندی مکمل ہوتے ہی شیڈیول جاری ہوگا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ انتخابی شیڈیول پر الیکشن کمیشن کے ہاتھ باندھنا چاہتے ہیں، انتخابی شیڈیول پہلے جاری کرنے میں کوئی مسئلہ ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پہلے ہو بھی جائے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ  حلقہ بندیاں شائع ہونے کے بعد ہی قانونی طور پر شیڈیول جاری ہوسکتا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ صدرسے اتفاق کے بعد انتخابات کی تاریخ کا نوٹیفکیشن جاری ہوچکا، نوٹیفکیشن کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 8 فروری کو ہونگے، ایڈووکیٹ جنرلزکے مطابق کسی صوبائی حکومت کو انتخابات کی تاریخ پر اعتراض نہیں، وفاقی و صوبائی حکومتیں یقین بنائیں کہ انتخابات کا عمل 8 فروری کو بغیر کسی رکاوٹ مکمل ہو، حکم نامہ میں تمام اداروں کو پابند کر دیا ہے۔

جسٹس علی ظفر صاحب آپکو یقین دلاتے ہیں عدالت اس فیصلے پرعمل کرائے گی، جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر میں زندہ رہا تو فیصلے پر ہر صورت عمل ہوگا، الیکشن کمشین اگر کام نہیں کرسکتا تو گھر چلا جائے، یہ بات آرڈر میں لکھنا نہیں چاہتے لیکن میسج سب تک پہنچا رہے ہیں، میڈیا نے بھی اگر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہوگی، الیکشن نہ ہوئے تو پھر بات کریں، میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے شکوک پیدا کرنا قابل قبول نہیں، الیکشن کمیشن خود متعلقہ ٹی وی چینلز کیخلاف پیمرا کو شکایت کرے، ہر ذمہ داری پوری کرنا عدالت کا کام نہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ عدالت آئین و قانون کی کسی خلاف ورزی کی توثیق نہیں کر رہی، الیکشن کمیشن یقینی بنائےکہ 8 فروری کو انتخابات ہر صورت ہوں، الیکشن کمیشن ہر قدم قانون کے مطابق اٹھائے۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے 90 دن میں انتخابات کیلئے دائر درخواستیں نمٹاتے ہوئے کہا کہ آپ نےعدالت کا دوستانہ چہرہ دیکھا ہے دوسرا چہرا ہم دکھانا نہیں چاہتے، توقع ہے انتخابات اچھے ماحول میں ہونگے، شائستگی سے اپنا پیغام زیادہ بہترانداز میں پہنچایا جا سکتا ہے۔

8 فروری کوعام انتخابات کا نوٹیفکیشن جاری

اگرآپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/ کو لائک کریں۔

ٹوئٹر پرہمیں فالوکریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اورحالات سے باخبررہیں۔

متعلقہ خبریں