Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

لاپتا افراد کیس میں تفتیشی افسر اور دیگر اداروں سے 18 دسمبر تک رپورٹ طلب

 سندھ ہائی کورٹ نے تفتیشی افسراوردیگراداروں سے 18 دسمبر کو رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو بھی تازہ رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ 

سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پرعدالت نے تفتیشی افسران پر برہمی کااظہارکیا۔

جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹونے کہا کہ جو جو تفتیشی افسرلاپتا افراد کا سراغ لگانے میں کوتاہی برتنے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، تفتیشی افسران کو شہریوں کو لاپتا کرنے والے ملزمان کی فہرست میں شامل کرلیں۔ ہمیں ایک ایک دن کی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات میں پیش رفت نہ ہوئی تو عدالت سمجھے گی یہ بھی شریک جرم ہیں، عدالت سمجھے گی یہ تفتیشی افسران بھی شہریوں کو لاپتا کرنے میں مدد کی۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن سے لاپتا شہری ظفر کا سراغ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے، اب تک 9 جے آئی ٹیز اجلاس اور 2 صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس ہوچکے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک مہینے کا وقت دیا تھا آج کیا کرکے لائے ہو؟ جس پرتفتیشی افسرنے جواب دیا کہ پہلے والے تفتیشی افسر کا تبادلہ ہوگیا ہے کچھ دن پہلے تحقیقات میرے سپرد کی گئی ہے۔

 عدالت نے کہا کہ جو تحقیقات ہوچکی تھیں وہ تو ریکارڈ پر ہوں گی؟ لوگوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے تفتیشی افسراوردیگراداروں سے 18 دسمبر کو رپورٹ طلب کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومت کو بھی تازہ رپورٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اگر آپ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا چاہتے ہیں تو ہمارےفیس بک پیج https://www.facebook.com/BOLUrduNews/  کولائک کریں۔ ٹوئٹر پر ہمیں فالو کریں https://twitter.com/bolnewsurdu01 اور حالات سے باخبر رہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں دیکھنے کے لیے ہمارے  کو سبسکرائب کریں   اور بیل آئیکن پر کلک کریں۔

متعلقہ خبریں