عدالت نے حکم نامے میں کہا کہ سی آر پی سی کی سیکشن 87 کے تحت مفرورملزمان کیخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے، اور ملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں۔
تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس سے متعلق تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ ریفرنس کے تفتیشی افسرمیاں عمرندیم عدالت میں پیش ہوئے اور رپورٹ جمع کرائی، ریفرنس میں شریک چھ ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی۔
حکم نامے میں کہا گیا کہ ملزم ملک ریاض حسین، مرزا شہزاد اکبر، ضیاء المصطفی نسیم کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، ملزم سید ذوالفقاربخاری، احمد علی ریاض اور فرحت شہزادی کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہو سکی، رپورٹ کے مطابق ملزمان جان بوجھ کر وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہیں ہونے دے رہے اور خود کو چھپا رکھا ہے۔
جج محمدبشیر نے حکم نامے میں کہا کہ ملزمان کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل نہ ہونے دینے کا مقصد قانونی نظام کو فرسٹریٹ کرنا ہے، عدالت اس حوالے سے مطمئن ہے کہ ملزمان مفرور ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے چھپے ہوئے ہیں، عدالت سی آر پی سی کی سیکشن 87 کے تحت مفرور ملزمان کیخلاف اشتہاری کے نوٹسز جاری کرتی ہے اورملزمان کے حوالے سے ان کی رہائش گاہوں کے باہر اشتہارات چسپاں کیے جائیں۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق ملزمان کے آبائی اور رہائشی علاقوں میں بھی اشتہارات کو اونچی اواز میں پڑھا جائے، ملزمان کے خلاف اشتہاری قراردیے جانے کی مزید کارروائی 6 جنوری 2024 کو ہوگی۔




















