Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

معزول جج شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف کیس کی سماعت کل تک ملتوی

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ادارے نہیں لوگ برے ہوتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں سابق معزول جج شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کےخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربنچ نے سماعت کی۔

سابق جج شوکت عزیزصدیقی کی جانب سے وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس پاکستان نے ان سے پوچھا کہ درخواست پرگزشتہ سماعت کب ہوئی تھی؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ آخری سماعت 13 جون 2022 کو ہوئی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الاحسن نے بنچ میں شمولیت سے انکارکیا تھا، میں نے کسی کو بنچ سے نہیں ہٹایا، کوشش ہوتی ہے کہ اتفاق رائے یا جمہوری طریقے سے کمیٹی میں چلیں، موبائل اٹھا کرصحافی بننے والوں کو سوچنا چاہیے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر پر فیصلہ آ چکا ہے، جمہوریت کی جانب جا رہے ہیں عدالت میں بھی جمہوریت آ رہی ہے۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ جمہوریت اس وقت مشکل میں ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ان سے پوچھا کہ کیا حکومت درخواست کی مخالفت کرے گی؟

وفاقی حکومت نے شوکت عزیز صدیقی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض کردیا۔

شوکت عزیزصدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل کا آغازکیا اورسابق جج شوکت عزیزصدیقی کی برطرفی کا باعث بنے والی تقریرپڑھ کرسنائی۔

چیف جسٹس قاضی فائزنے حامد خان سے پوچھا کہ اُس وقت چیف جسٹس ہائی کورٹ کون تھے؟ وکیل نے جواب دیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت چیف جسٹس انورکانسی تھے، شوکت عزیزصدیقی کو پیشکش کی گئی کہ ہماری مرضی کا فیصلہ کرو تو تمہارے ریفرنس ختم کروا دینگے، فیض آباد دھرنا کیس میں ریمارکس پر بھی ایک ریفرنس دائر ہوا تھا، شوکت عزیز صدیقی پر ایک ریفرنس سرکاری گھر کی تزئین و آرائش کا بھی تھا، شوکت عزیز صدیقی کیخلاف ایک درخواست گزارجمشید دستی، سی ڈی اے افسر اور وکیل کلثوم خالق تھیں۔

حامد خان نے دلائل دیے کہ جس ریفرنس پر برطرفی ہوئی وہ سپریم جوڈیشل کونسل نے سوموٹو لیا تھا، اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو تقریرکا کیسے معلوم ہوا؟

حامد خان نے جواب دیا کہ رجسٹرارسپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کو نوٹ لکھا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کیا شوکت عزیز صدیقی کی تقریر تحریری تھی؟ حامد خان نے جواب دیا کہ شوکت عزیزصدیقی نے فی البدیہ تقریرکی تھی۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ جس شخص پرالزام لگا رہے ہیں انہیں فریق کیوں نہیں بنایا گیا؟ سابق جج کے وکیل نے جواب دیا کہ شخصیات ادارے کی نمائندگی کررہی تھیں اس لیے فریق نہیں بنایا عدالتِ عظمٰی نے کہا کہ یا کسی پر الزام نہ لگائیں یا پھرجن پرالزام لگا رہے انہیں فریق بنائیں۔

وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ شوکت عزیزصدیقی نے تقریرمیں کسی کا نام نہیں لکھا تھا،

جسٹس حسن اظہررضوی نے کہا کہ شوکازنوٹس کے جواب میں تین شخصیات کے نام لیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ادارے نہیں لوگ برے ہوتے ہیں، ملک کی تباہی اس وجہ سے ہوتی کہ شخصیات کے بجائے اداروں کو برا بھلا کہتے ہیں، اداروں کو لوگ چلاتے ہیں، کسی کی پیٹھ پیچھے الزام نہیں لگانے دینگے، اس اعتبار سے تو سپریم جوڈیشل کونسل کا فیصلہ درست ہے۔ فریق بنا کر ہم پر احسان نہ کریں، اداروں پر الزام نہیں لگانے دینگے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ شوکت عزیزصدیقی نے الزام ہائی کورٹ چیف جسٹس پرلگایا تھا، جسٹس انورکانسی کو بھی فریق نہیں بنایا گیا۔ انورکانسی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کرایا تھا۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں جواب جمع کروایا تو سماعت کا موقع ہی نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے اوپن کورٹ مین ریفرنسز کی سماعت کا حکم دیا تھا، عدالت نے کہا تھا جو جج چاہے اس کیخلاف کارروائی کھلی عدالت میں ہوگی، سپریم جوڈیشل کونسل نے صرف ابتدائی سماعت کی تھی باضابطہ انکوائری ابھی ہونی تھی۔

جسٹس جمال مندوخیل نےاستفسارکیا کہ شوکت عزیز صدیقی نے اپنی تقریرکا متن بیان حلفی پرکونسل کو کیوں نہیں دیا؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شوکت عزیزصدیقی کہتے ہیں انہیں سنے بغیرنکالا گیا، شوکت عزیزصدیقی نے بطورجج کبھی کسی کو سنے بغیراس کیخلاف فیصلہ نہیں کیا ہوگا، ممکن ہے جن پرالزامات لگ رہے وہ شوکت عزیز صدیقی کے الزام کی تصدیق کردیں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کئی لوگ بعد میں تسلیم کر لیتے ہیں کہ دبائو میں کام کیا تھا۔

چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ کوئی جج کرپٹ ہو تو الزام ضلعی عدلیہ پر نہیں اس جج کےخلاف لگے گا۔ سردیوں کی چھٹیاں آ رہی ہیں، آئندہ سماعت پر صرف فریقین کو نوٹس ہی جاری ہونگے، حامد خان صاحب آپ ہچکچا رہے ہیں اس لیےسماعت جنوری میں رکھ لیتے ہیں، کس کو فریق بنانا ہے یہ ہمارا کام نہیں، جو فریق نہ ہو اس پر الزام نہیں لگانے دینگے، فریق نہیں بنانا تو شخصیات کے نام نکال کر نئی درخواست دائرکریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس پربھی معاونت کریں کہ رجسٹرار کسی جج کی خلاف کونسل کو خط لکھ سکتا ہے یا نہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر فریق بنانے کی درخواست آج دائرکرتے ہیں تو کل نوٹس جاری کر دینگے، اس کے ساتھ ہی وکیل حامد خان نے متعلقہ شخصیات کو فریق بنانے کی درخواست دائرکرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ جن پر الزام لگایا ہے انہیں فریق بنانے کی درخواست کل تک دائرکردینگے۔

سپریم کورٹ نے معزول جج شوکت صدیقی کے خلاف کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کردی۔

متعلقہ خبریں