موسم سرما اپنے ساتھ کئی سوغاتیں لے کر آتا ہے انہی میں باجرے کی روٹی بھی شامل ہے۔ یوں تو اسے کسی بھی موسم میں غذا میں شامل کیا جاسکتا ہے لیکن سردیوں میں اس کی اپنی ہی ایک شان ہے۔
باجرہ کی تاثیر گرم ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اسے سرد موسم کے لیے موزوں ترین سمجھا جاتا ہے۔ باجرہ دنیا کا سب سے قدیم اناج میں سے ایک ہے۔ اور جن فصلوں کو ابتدا میں کاشت کیا گیا ان میں باجرہ بھی شامل تھا یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا کا چھٹا اہم ترین اناج تصور کیا جاتا ہے۔
اس میں کئی صحت بخش اجزاء پروٹین،چکنائی،کاربوہائیڈریٹ،فائبر،سوڈیم،فلوٹ،آئرن،میگنیشییم،فاسفورس،زنک اور وٹامن بی چھ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اسے مختلف کھانوں میں بھی بطوردال بھی استعمال کیا جاتا ہے تاہم اسے پیس کر آٹاتیار کیا جاتا ہے اور اس آٹے سے روٹی، کیک اور کئی طرح کے پکوان بنائے جاتے ہیں۔
اس کا مزاج گرم ہوتا ہے اس لئے اسے سردی میں کھانا زیادہ فائدہ مند ہے یہی وجہ ہے سردی میں اس کی روٹی بناکر گڑ کے ساتھ کھائی جاتی ہے اور یہ روٹی کھانے سے آپ کئی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں یہاں پر اس کے چند فائدے پیش کیے جارہے ہیں۔
اینٹی آکسیڈینٹ سے بھر پورہونے کی وجہ یہ جسم میں فری ریڈیکل سے خلیوں کو تحافظ دے کر نقصان سے بچاتا ہے، جو کئی طرح کے امراض کا سبب بنتے ہیں۔
ایسے افراد جو گوشت نہیں کھاتے ان کے لئے باجرہ پروٹین حاصل کرنے بہترین ذریعہ ہے کیونکہ اس میں پروٹین کی کثیرمقدار پائی جاتی ہے۔
آئرن سے بھر پور ہونے کی بناپر ایسی خواتین کے لئے بے حد مؤثر ہے جو خون کی کمی کے عارضے میں مبتلا ہیں۔
اس میں فائبر کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ دیر سے ہضم ہوتا ہے اور دیگر کھانوں کے مقابلے میں گلوکوز کو آہستہ آہستہ خارج کرتا ہے اس طرح خون میں چینی کی سطح کو اعتدال میں رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ اسی لئے ذیابیطس میں مبتلا افراد کے لئے یہ ایک بہترین غذا ہے۔




















