Tue, 21-Oct-2025

تازہ ترین خبریں:

بلوچستان ہائیکورٹ کا حلقہ بندی تبدیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے بلوچستان ہائی کورٹ کا حلقہ بندی تبدیل کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کوئٹہ کی دو صوبائی نشستوں پر حلقہ بندیوں کیخلاف اپیل پر فیصلہ سنادیا۔

سپریم کورٹ نے عام انتخابات میں تاخیر کرنے کے تمام دروازے بند کردیے اور اپنے اہم فیصلے میں کہا کہ انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں پر اعتراض نہیں اٹھایا جاسکتا۔

عدالت نے الیکشن کمیشن کی اپیل منظور کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ جو اختیار قانون نے الیکشن کمیشن کو دیا اسے ہائیکورٹ کیسے استعمال کر سکتی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ الیکشن پروگرام جاری ہونے کے بعد حلقہ بندیوں سے متعلق تمام مقدمہ بازی غیر موثر ہو چکی ہے، کسی انفرادی فرد کو ریلیف دینے کیلئے پورے انتخابی عمل کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، ہمیں اس حوالے سے لکیر کھینچ کر حد مقرر کرنی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیے کہ مجھے سمجھ نہیں آتا سب کیوں چاہتے ہیں الیکشن لمبا ہو، الیکشن ہونے دیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر اس درخواست پر فیصلہ دیا تو سپریم کورٹ میں درخواستوں کا سیلاب امڈ آئے گا، جب الیکشن شیڈول جاری ہو جائے تو سب کچھ رک جاتا ہے، الیکشن کمیشن کا سب سے بڑا امتحان ہے کہ آٹھ فروری کے انتخابات شفاف ہوں۔

واضح رہے کہ بلوچستان ہائیکورٹ نے بلوچستان کی دو صوبائی نشستوں شیرانی اور ژوب میں الیکشن کمیشن کی حلقہ بندی تبدیل کر دی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

متعلقہ خبریں