ایک رجسٹرڈ نیوٹریشنسٹ روب ہوبسن کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں بار بار بھوک لگتی ہے اور وہ کچن میں کچھ نہ کچھ کھانے کی چیزیں تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن وہ بھوک لگنے کی اصل وجہ نہیں جانتے۔
دنیا میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو اپنی صحت کے ساتھ وزن کو توازن میں رکھنے کے لیے مختلف ڈائٹ پلان کا استعمال کرتے ہیں، ان ہی میں کچھ ڈائٹ پلان ایسے ہیں جن میں صرف پودوں پر مبنی غذاؤں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسے افراد جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں جیسے گوشت اور دودھ کے بجائے پودوں پر منبی غذائیں سبزیاں، اناج، گری دار میوے اور پھلوں کا استعمال کرتے ہیں یہ غذائیں انتہائی صحت بخش ہیں تاہم جسم کو کچھ اور اضافی غذائیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
پودوں پر مبنی غذاؤں میں بہت سے غذائی اجزاء اور پروٹین کی کمی ہوتی ہے جو جانوروں سےحاصل ہونے والی غذاؤں میں موجود ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پلانٹ بیس فوڈ جلد ہضم ہوجاتے ہیں اور آپ کو دوبارہ بھوک لگنا شروع ہوجاتی ہے اگرچہ آپ کھانے کی مقدار زیادہ کھا رہے لیکن ان میں توانائی کی کمی ہوتی ہے۔

روب ہوبسن کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ سبزیوں اور گری دار میووں یا پودوں پر مبنی غذا کو کھانا چھوڑ دیں بلکہ اپنی پلیٹ کا خیال رکھیں کہ آپ اس میں کون سی غذاؤں کو شامل کر رہے ہیں۔
بادام، ایوکاڈو، سیب، شکر قندی، دال، پالک، کیلے، بروکولی اور سرسوں کا ساگ سمیت یہ سب غذائیں بھوک کو دور کرنے اور پیٹ بھرے کے احساس پیدا کرتی ہیں۔
جبکہ بہت سے اسنیکس جیسے چپس اور مٹھائیاں، مناسب غذائیت فراہم نہیں کرتی بلکہ یہ آپ کو صرف تھوڑے وقت کے لیے مطمئین کر دیتی ہیں، کیونکہ یہ غذائیں خوراک میں اضافی توانائی شامل کرتی ہیں جب اس کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ضروری نہیں کہ انسان بھوکا ہو یا اسے کھانے کی ضرورت ہو۔

یہ تیزی سے ہضم ہونے والے کاربوہائیڈریٹس بلڈ شوگر میں کمی میں اضافہ کرتے ہیں اس طرح بھوک کا شدت سے احساس، موڈ میں تبدیلی اور عام طور پر اسی قسم کے کھانے کی خواہش میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اس کے بجائے، ماہرین فائبر، مکمل اناج، پھل، سبزیاں، صحت مند چکنائی یا لین پروٹین پر مشتمل غذاؤں کے انتخاب کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام غذائیں دیر سے ہضم ہوتی ہیں، یعنی یہ خون میں شوگر کی متوازن سطح کو برقرار رکھ کر آپ کو دیر تک مطمئن رکھتی ہیں۔

تاہم بھوک لگنے کا یہ واحد عنصر نہیں ہے طرز زندگی کے کچھ اور عوامل بھی آپ کی بھوک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماہرین ایک طویل عرصے سے رات کی پرسکون نیند کے فوائد پیش کرتے آرہے ہیں اور اس کا ایک فائدہ بھوک کو منظم کرنا بھی ہے روب ہوبسن کے مطابق جو لوگ رات کی پرسکون نیند نہیں لیتے ان میں ایسے ہارمون کی سطح بڑھنے لگتی جو بھوک کو جگاتے ہیں۔
اس کے علاوہ تناؤ اور اضطراب کے لیے استعمال کی جانے والی ادویات بھی بے وقت بھوک کا سبب بن سکتی ہیں ۔




















