سیاستدانوں کی تاحیات نا اہلی سپریم کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا یا پارلیمنٹ کی قانون سازی؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 62 ون ایف کے تحت سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت جاری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں سات رکنی لارجربنچ سماعت کررہا ہے۔ لارجربنچ میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔
دسمبر کے وسط میں سپریم کورٹ نے نااہلی کی مدت سے متعلق تمام مقدمات ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا تھا۔
اٹارنی جنرل کے دلائل
وفاقی حکومت کے وکیل اٹارنی جنرل روسٹرم پر آئے اور دلائل کا آغازکیا۔ چیف جسٹس پاکستان نے ان سے سوال کیا کہ درخواست گزاروں میں سے کون کون تاحیات نااہلی کی حمایت کرتا ہے؟ جس پر درخواست گزارثنااللہ بلوچ، ایڈووکیٹ خرم رضا اور عثمان کریم نے تاحیات نااہلی کی حمایت کر دی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اور عدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی سزا پانچ سال کرنے کی قانون سازی کو سپورٹ کر رہے ہیں، نواز شریف تاحیات نااہلی فیصلے پر نظر ثانی ہونی چاہیئے۔
درخواست گزار امام بخش قیصرانی کے وکیل ثاقب جیلانی بھی روسٹرم پرآئے۔
اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلزکی حمایت
اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت کی حمایت کرتا ہوں اورعدالت سمیع اللہ بلوچ کے مقدمے پر نظر ثانی کرے۔ اس کے ساتھ ہی اٹارنی جنرل اورتمام صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلزنے تاحیات نااہلی کے خاتمے کی حمایت کردی تاہم میربادشاہ قیصرانی کے خلاف درخواست گزارکے وکیل ثاقب جیلانی نے تاحیات نااہلی کی مخالفت کردی۔ کہا کہ میں نے میر بادشاہ قیصرانی کے خلاف 2018 میں درخواست دائر کی جب 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا فیصلہ آیا۔
سپریم کورٹ میں 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کیس کی سماعت 4 جنوری تک ملتوی
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/ADxzqTptlJ— BOL Network (@BOLNETWORK) January 2, 2024
وکیل ثاقب جیلانی نے دلائل دیے کہ اب الیکشن ایکٹ میں سیکشن 232 شامل ہو چکا اس لیے تاحیات نااہلی کی حد تک استدعا کی پیروی نہیں کررہا۔
اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کی تشریح کے فیصلے کے دوبارہ جائزے کی استدعا کی جس پرچیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اٹارنی جنرل! آپ کا مؤقف کیا ہے کہ الیکشن ایکٹ چلنا چاہیے یا سپریم کورٹ کے فیصلے؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ تاحیات نااہلی کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے، الیکشن ایکٹ کی تائید کروں گا کیونکہ یہ وفاق کا بنایا گیا قانون ہے، اس پرعدالت نے کہا کہ اس معاملے پرایڈوکیٹ جنرلز کا مؤقف بھی لے لیتے ہیں۔
چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرلزسے کہا کہ آپ اٹارنی جنرل کے مؤقف کی حمایت کرینگے یا مخالفت؟ ایڈوکیٹ جنرلز نے اٹارنی جنرل کی مؤقف کی تاٸید کردی۔ صوباٸی ایڈوکیٹ جنرلزنے بھی الیکشن ایکٹ میں ترامیم کی حمایت کی۔
تاحیات نااہلی۔۔یا۔۔پانچ سال کی مدت؟
سپریم کورٹ میں 62 ون ایف کے تحت نااہلی کیس کی سماعت
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/kNBLwOT5DH— BOL Network (@BOLNETWORK) January 2, 2024
اٹارنی جنرل نے آئین کاارٹیکل باسٹھ ،تریسٹھ پڑھ کرسنایا۔ اٹارنی جنرل نے رکن پارلیمنٹ بننے کے لیے اہلیت اور نااہلی کی تمام آئینی شرائط پڑھ کر سنائیں اور دلائل میں کہا کہ کاغذات نامزدگی کے وقت سے باسٹھ اور تریسٹھ دونوں شرائط دیکھی جاتی ہیں، انٹری پوائنٹ پر دونوں آرٹیکل لاگو ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کچھ شقیں توحقائق سے متعلق ہیں وہ آسان ہیں، کچھ شقیں مشکل ہیں جیسے اچھے کردار والی شق۔ اس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم کہہ سکتے ہیں۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ اچھے کردارکے ہیں؟ اس پرکمرہ عدالت میں قہقے لگے
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اسلامی تعلیمات کا اچھا علم رکھنا بھی ایک شق ہے، پتہ نہیں کتنے لوگ یہ ٹیسٹ پاس کرسکیں گے۔ نااہلی کی مدت کا تعین آئین میں نہیں، اس خلا کوعدالتوں نے پرکیا۔
جسٹس منصورعلی شاہ نےاٹارنی جنرل سے سوال یہ کہ کیا الیکشن ایکٹ میں دی گئی نااہلی کی مدت آئین سے زیادہ اہم تصور ہوگی؟ آرٹیکل 63 کی تشریح کا معاملہ ہے، سنگین غداری کرتے تو الیکشن لڑ سکتا ہے جبکہ کہ سول کورٹ معمولی جرائم میں سزا یافتہ الیکشن نہیں لڑ سکتا۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ کی یہ ترمیم چیلنج نہیں ہوئی، جب ایک ترمیم موجود ہے تو ہم پرانے فیصلے کو چھیڑے بغیراس کو مان لیتے ہیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ تاثرایسا آ سکتا ہے کہ ایک قانون سے سپریم کورٹ فیصلے کو اوور رائٹ کیا گیا۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے کہا کہ تو کیا اب ہم سمیع اللہ بلوچ فیصلے کو دوبارہ دیکھ سکتے ہیں، سمیع اللہ بلوچ کیس میں عدالت نے ایک نقطے کو نظراندازکیا۔
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالت نے کہا کرمنل کیس میں بندہ سزا کے بعد جیل بھی جاتا ہے،اس لیے نااہلی کم ہے، عدالت نے یہ نہیں دیکھا ڈیکلیریشن باسٹھ ون ایف اور کرمنل کیس دونوں میں ان فیلڈ رہتا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 62اور63 میں فرق کیا ہے؟ آرٹیکل 62کی ذیلی شقیں مشکل پیداکرتی ہے جو کردار کی اہلیت سے متعلق ہے، کسی اورکے کردار کا تعین کیسے کیاجاسکتا ہے؟ کیا اٹارنی جنرل اچھے کردارکے مالک ہیں؟ جواب نا دیجیے گا صرف مثال کیلٸے پوچھ رہا ہوں۔ سپوٹرکہیں گے آپ اعلی کردار، مخالفین بدترین کردار کا کہیں گے، اسلامی معیار کے مطابق تو کوٸی بھی اعلی کردار کا مالک ٹھہرایا نہیں جا سکتا۔
انھوں نے ریمارکس دیے کہ الیکشن لڑنے کے لئے جو اہلیت بیان کی گئی ہے، اگر اس زمانے میں قائد اعظم ہوتے وہ بھی نااہل ہو جاتے، صادق اورامین کے الفاظ کوئی مسلمان اپنے لئے بولنے کا تصور نہیں کرسکتا؛ بڑے بڑے علماء روز آخرت کے حساب سے ڈرتے رہے، اگرمیں کاغذاتِ نامزدگی جمع کراتا ہوں اور کوئی کہتا ہے کہ یہ اچھے کردار کے نہیں تو میں تو چیلنج نہیں کروں گا، کیونکہ جو کردار کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسراف کرنے والا نہ ہو، ہم روز بجلی، پانی کا اسراف کرتے ہیں، اچھے کردارکے بارے میں وہ ججز فیصلہ کریں گے جو خود انسان ہیں؟ الیکشن لڑنے کے لئے جو اچھے کردار کی شرط رکھی گئی ہے کیا کوئی انسان حلفاً کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا حامل ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آئینی قانون سازی سے آئین میں ردوبدل ممکن ہے؟ کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی؟ کیا آئین میں جو لکھا ہے اسے قانونی سازی سے بدلا جاسکتا ہے؟ قتل اور غداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں لیکن معمولی وجوہات کی بنیاد پرتاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی۔ معمولی وجوہات کی بنیاد پر تاحیات نااہلی غیرمناسب نہیں لگتی؟ قتل اورغداری جیسے سنگین جرم میں کچھ عرصے بعد الیکشن لڑ سکتے ہیں، کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو خت کرنے کیلٸے آٸین میں ترمیم کرنا پڑے گی، کیا آٸین میں جو لکھا ہے اسے قانون سازی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، سوال یہ ہےکہ کیا ذیلی آٸینی قانون سازی سے آٸین میں ردوبدل ممکن ہے؟
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ بھی تولاگو ہوچکا اوراس کو چیلنج بھی نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب تک عدالتی فیصلے موجود ہیں تاحیات نااہلی کی ڈیکلریشن اپنی جگہ قاٸم ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آرٹیکل 62 میں نااہلی کی مدت درج نہیں بلکہ یہ صرف عدالت نے دی، ہم تو گناہ گارہیں اوراللہ تعالی سے معافی مانگتے ہیں۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ عدالت کسی شخص کیخلاف ڈیکلریشن کیسے دے سکتی ہے؟ کوئی 20سال بعد سدھرکرعالم بن جائے تو کیا اس کا کرداراچھا ہوگا؟ اگر پہلے کسی نے ملک مخالف تقریر کردی تو وہ آج بھی انتخابات نہیں لڑ سکتا؟
عدالت نے ویڈیو لنک پر وکلاء کو دلائل سے روک دیا
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/zAvtvwyksL— BOL Network (@BOLNETWORK) January 2, 2024
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم میں ڈیکلریشن کا مقصد آراو کے فیصلے پر اپیل کا حق دینا ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کوئی شخص توبہ کرکے عالم یا حافظ بن جائے تو برے کردار پر تاحیات نااہل رہے گا؟ آرٹیکل 63ون جی کے تحت ملکی سالمیت اور نظریے کیخلاف ورزی پر نااہلی پانچ سال ہے، کیا کوئی شخص حلفیہ طور پر کہہ سکتا ہے کہ وہ اچھے کردار کا مالک ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے مخدوم علی خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو عدالتی معاون مقرر کرنے کا سوچ رہے تھے لیکن آپ پہلے ہی ہمارے سامنے فریق ہیں۔ یہ بتائیں کہ آرٹیکل 62 میں یہ شقیں کب شامل کی گئیں؟
مخدوم علی خان نے کہا کہ آرٹیکل 62 آئین پاکستان 1973 میں سادہ تھا، آرٹیکل 62 میں اضافی شقیں صدارتی آرڈر 1985 سے شامل ہوئیں۔ یعنی ضیا نے یہ کردارسے متعلق شقیں شامل کرائیں، کیا ضیاالحق کا اپنا کرداراچھا تھا؟ ستم ظریفی ہے کہ آئین کے تحفظ کی قسم کھا کرآنے والے خود آئین توڑدیں اورپھریہ ترامیم کریں۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ ایک شخص کو سزامل گئی تو بات ختم کیوں نہیں ہوجاتی؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ سزا کاٹ لینے کے بعد بھی کبھی انتخابات نہ لڑ سکے، آئین میں ہر سزا کی مدت ہے تو نااہلی تاحیات کیسے ہوسکتی ہے۔
ہم آج اس کیس کو ملتوی کریں گے ، چیف جسٹس
براہ راست دیکھیں:https://t.co/d9lAsOIKwT#BOLNews #SupremeCourt pic.twitter.com/mBcauCIdCh— BOL Network (@BOLNETWORK) January 2, 2024
چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے 62ون ایف کے تحت نااہلی کیس کی سماعت 4 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج اس کیس کو11 جنوری تک ختم کریں گے۔ آپ اس کیس میں سنجیدہ ہیں تو اسلام آباد آئیں۔ وہ کون ہے جو قانون کی مخالفت کررہا ہے، ہم سننا چاہتے ہیں جس پر وکیل عثمان کریم نے کہا کہ جب تک سمیع اللہ بلوچ کا فیصلہ موجود ہے، قانون نہیں آ سکتا۔




















