سندھ ہائیکورٹ نے ایم نائن موٹروے الاصف اسکوائرسے ٹول پلازہ تک تجاوزات کےخاتمے کےکیس کاحکم نامہ جاری کردیا۔
ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے الآصف اسکوائر سے ٹول پلازہ تک تجاوزات کا خاتمہ ہو یا نہیں؟ عدالت نے ناظر سندھ ہائیکورٹ کوکمشنرمقررکرتےہوئےانسپیکشن کا حکم دے دیا۔
عدالت نے حکم نامےمیں کہا کہ ناظرسندھ ہائیکورٹ الآصف سے حبیب ریسٹورنٹ تک تجاوزات کا جائزہ لے کر رپورٹ جمع کرائیں، ڈپٹی کمشنرشرقی سمیت تمام فریقین کی موجودگی میں انسپیکشن کی جائے، ناظر سندھ ہائیکورٹ تجاوزات کا جائزہ لے کر سات روز میں تصاویر کے ساتھ رپورٹ جمع کرائیں۔
سندھ ہائیکورٹ نےحکم دیا کہ ایس ایچ او اور ایس ایس پی اس بات کو یقینی بنائیں کسی قسم کی امن و امان کی صورتحال پیدا نا ہو۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی۔
درخواست گزارنے مؤقف پیش کیا کہ الآصف اسکوائرسے تجاوزات کے خاتمے سے متعلق ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ غلط اور گمراہ کن ہے۔
ڈپٹی کمشنرشرقی کی رپورٹ کے مطابق جمالی پل سے بادشاہ ہوٹل تجاویزات کا خاتمہ کردیا ہے۔ الآصف اسکوائر سے حبیب ہوٹل تک دونوں اطراف کی تجاوزات ختم کرادی ہے، تجاوزات کے خاتمے کے اینٹی انکروچمنٹ مہم جاری ہے۔
ڈی سی ایسٹ کے مطابق سیلاب متاثرین علاقے میں مقیم ہیں ان کو بھی بے دخل کرنا ہے۔
جسٹس ندیم اخترنے کہا کہ سیلاب متاثرین کا معاملہ تو بہت پرانا ہوچکا ہے، جس پر ڈی سی ایسٹ نے بتایا کہ سیلاب ختم ہوچکا مگر متاثرین واپس نہیں گئے۔
جسٹس ندیم اخترنے پوچھا کہ کتنے دنوں میں ایم نائن کے اطراف میں تجاوزات کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا؟ ڈی سی نے جواب دیا کہ آٹھ ہفتے تک مہلت دی جائے، ٹیمیں الیکشن میں مصروف ہیں، اس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ضروری ہے مگر تجاوزات کا خاتمہ بھی بہت ضروری ہے، لمبی تاریخ نہیں دے سکتے، تجاوزات کا جلد خاتمہ کیا جائے۔
این ایچ اے نے بتایا کہ پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز اور بس ٹرمینل قانون کے مطابق ہوں گے، تمام متعلقہ اداروں سے با قاعدہ منظوری لی جائے گی۔




















